پھانسی سے پہلے نربھیا کے مجرموں کا انٹرویو لینا چاہتا ہے میڈیا

ایک میڈیا ہاؤس نے تہاڑ جیل انتظامیہ کے ذریعہ نربھیا کے قصورواروں کا انٹرویو لینے کی اجازت نہیں دینے پر دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی، جس پر عدالت نے جیل انتظامیہ کو ہی فیصلہ لینے کے لیے کہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

دہلی ہائی کورٹ نے ایک میڈیا ہاؤس کی عرضی پر تہاڑ جیل انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ جمعرات تک قانون کے مطابق سبھی دلیلوں پر غور کر کے یہ فیصلہ لے کہ میڈیا ہاؤس نربھیا کے قصورواروں کا انٹرویو لے سکتا ہے یا نہیں۔ دراصل ایک میڈیا ہاؤس نے گزشتہ 25 فروری کو تہاڑ جیل انتظامیہ سے نربھیا کے قصورواروں کا انٹرویو لینے کی اجازت طلب کی تھی، جسے جیل افسران نے خارج کر دیا تھا۔

انٹرویو لینے سے متعلق درخواست قبول نہیں کیے جانے کے بعد میڈیا ہاؤس نے تہاڑ جیل انتظامیہ کے ذریعہ اس کی درخواست کو خارج کرنے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج دیتے ہوئے پھانسی سے پہلے نربھیا کے چاروں قصورواروں کے انٹرویو کی اجازت مانگی ہے۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نربھیا کے قصورواروں کے انٹرویو کے پیچھے اس کا مقصد مستقبل میں سماج کو ایک پیغام دینا ہے۔ یہاں قابل غور ہے کہ سبھی قصورواروں کو 20 مارچ کو پھانسی کے لیے ڈیتھ وارنٹ جاری ہو چکا ہے۔

بدھ کو میڈیا ہاؤس کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس نوین چاؤلہ کی سنگل بنچ نے تہاڑ انتظامیہ کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ عرضی پر قانون کے مطابق غور کرے اور کل تک اس پر کوئی مدلل فیصلہ لے کر مطلع کرے۔ اس سے پہلے گزشتہ جمعرات کو میڈیا ہاؤس کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کورٹ نے تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ نربھیا کے قصورواروں نے کئی نظام کا مذاق اڑایا ہے، اس لیے ان کا حوصلہ نہیں بڑھایا جانا چاہیے۔

قابل ذکر ہے کہ نربھیا کے سبھی قصورواروں مکیش، پون، ونے اور اکشے کو 20 مارچ کو پھانسی دینے کے لیے عدالت نے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیا ہے۔ ان سبھی مجرموں کی سزا کے خلاف اپیل کے سبھی متبادل ختم ہو چکے ہیں۔ ایسے میں اس بار ان کے ڈیتھ وارنٹ پر عمل ہونا یقینی نظر آ رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔