شاہین باغ احتجاج سے پولیس قانون کے مطابق نمٹے: ہائی کورٹ

ایڈوکیٹ امت ساہنی کی جانب سے دائر عرضی میں کالندی-کنج شاہین باغ روڈ کے علاوہ اوکھلا انڈر پاس کو ٹریفک کے لئے کھولنے کے حوالہ سے ہدایت جاری کرنے کا عدالت سے مطالبہ کیا گیا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے منگل کے روز شہری ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف چل رہے احتجاج کے حوالہ سے دہلی پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ کالندی-کنج شاہین باغ روڈ پر ٹریفک کو کھولے اور اس مسئلہ سے قانون کے مطابق بروقت نمٹا جائے۔ چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس سی ہری شنکر کی سربراہی والی دہلی ہائی کورٹ کی بنچ نے ان ہدایات کو جاری کرنے کے بعد عرضی کا تصفیہ کر دیا۔

ایڈوکیٹ امت ساہنی کی جانب سے دائر عرضی میں کالندی-کنج شاہین باغ روڈ یعنی روڈ نمبر 13 اے (متھرا روڈ اور کالندی کنج کے درمیان) کے علاوہ اوکھلا انڈر پاس کو ٹریفک کے لئے کھولنے کے حوالہ سے ہدایت جاری کرنے کا عدالت سے مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس روڈ کو 15 دسمبر 2019 کو شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) کے خلاف جاری احتجاج کی وجہ سے عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔

تاہم، سڑک کی بندش میں وقتاً فوقتاً توسیع ہوتی رہی، جس سے لاکھوں مسافروں کو شدید تکلیف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور لوگ گزشتہ ایک ماہ سے مختلف راستوں سے آنے جانے پر مجبور ہیں۔

دہلی ہائی کورٹ میں دائر کی گئی عرضی میں میں کہا گیا تھا، ’’کالندی کنج روڈ، جو کہ دہلی، فریدآباد (ہریانہ) اور نوئیڈا (اتر پردیش) کو جوڑتا ہے اور کافی اہم ہے۔ اسے پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کیے گئے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کی وجہ سے 15 دسمبر 2019 کو بند کر دیا تھا۔

مذکورہ سڑک کا استعمال کرنے والے متعدد مسافر دہلی-نوئیڈا۔دہلی (ڈی این ڈی) ایکسپریس وے اور آشرم کے لئے متبادل راستوں کو استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف ٹریفک جام کا خطرہ ہوتا ہے، بلکہ ایندھن اور قیمتی وقت کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔‘‘

Published: 14 Jan 2020, 3:13 PM