کتوں کی مبینہ گنتی کا تنازعہ: دہلی حکومت کا اروند کیجریوال کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا فیصلہ
دہلی حکومت نے عام آدمی پارٹی کے سربراہ کیجریوال کے خلاف مبینہ گمراہ کن معلومات پھیلانے پر ایف آئی آر درج کرانے کا اعلان کیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مہم سے اساتذہ کے حوصلے اور تعلیمی نظام کو نقصان پہنچا

نئی دہلی: دہلی کی ریکھا گپتا حکومت نے عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بات کی جانکاری دہلی کے وزیر تعلیم آشیش سود نے دی۔ ان کا کہنا ہے کہ عام آدمی پارٹی اور اروند کیجریوال کی جانب سے دہلی کے اساتذہ اور تعلیمی نظام کے حوالے سے مسلسل گمراہ کن معلومات اور غلط تاثر پھیلایا جا رہا ہے، جس کے پیش نظر حکومت کو قانونی کارروائی کا راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔
آشیش سود نے کہا کہ دہلی حکومت تعلیم کے شعبے سے متعلق کسی بھی قسم کی غلط بیانی یا جھوٹے دعوؤں کو برداشت نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق، سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر اساتذہ کے فرائض اور سرکاری احکامات کے حوالے سے جو باتیں پھیلائی جا رہی ہیں، وہ حقائق کے برعکس ہیں اور ان کا مقصد اساتذہ کے حوصلے پست کرنا اور دہلی کے تعلیمی نظام پر عوام کا اعتماد کمزور کرنا ہے۔
اس سے قبل جمعرات کو وزیر اعلیٰ کے دفتر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان جاری کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا کہ عام آدمی پارٹی کی طرف سے پھیلائی گئی مبینہ فیک نیوز کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ بیان میں بتایا گیا کہ محکمہ تعلیم نے سِول لائنز تھانے میں باضابطہ شکایت درج کرائی ہے۔ حکومت کے مطابق یہ ایک منظم کوشش ہے جس کے ذریعے نہ صرف اساتذہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے بلکہ دہلی کی تعلیم کے بارے میں جان بوجھ کر شکوک پیدا کیے جا رہے ہیں۔ بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ جھوٹ کی سیاست کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائی جائے گی اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔
یہ تنازعہ دہلی میں اساتذہ سے مبینہ طور پر آوارہ کتوں کی گنتی کرانے کے معاملے سے جڑا ہوا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام آدمی پارٹی عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ دوسری جانب عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی سنجیو جھا نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پہلے حکم نامے کے وجود سے انکار کیا گیا اور بعد میں اس کی تصدیق ہو گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے کام اساتذہ کی ذمہ داریوں میں شامل نہیں ہیں اور یہ معاملہ حکومت کی بدانتظامی کو ظاہر کرتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔