حکومت کی ناکامیوں کے سبب پورے سال دہلی کو فضائی آلودگی کا سامنا، سبھی طلبا کا مستقل میڈیکل چک اَپ ضروری: دیویندر یادو

دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی کے سرکاری اسکولوں میں تقریباً 18 لاکھ طلبا پڑھتے ہیں اور ڈی ایم سی میں 8 لاکھ بچے پرائمری اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ دہلی میں مجموعی طور پر 45 لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>دیویندر یادو / بشکریہ ایکس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو نے آج ایک بار پھر دہلی میں موجود فضائی آلودگی پر اپنی فکر کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ راجدھانی دہلی میں آلودگی پورے سال رہنے والا ایک سنگین اور پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے، جس پر قابو پانے کے لیے بی جے پی کی ریکھا گپتا حکومت کے پاس کوئی ٹھوس منصوبہ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آلودگی بڑھنے پر حکومت سب سے پہلے اسکولوں کو بند کرنے کے احکامات جاری کر دیتی ہے، لیکن طلبا کی صحت کے تئیں سنجیدگی دکھاتے ہوئے آلودگی پر قابو پانے کے لیے مستقل حل نکالنے میں حکومت مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ سردی، کہرا اور اسموگ کے سبب دہلی گیس چیمبر میں تبدیل ہو چکی ہے اور ایک بار پھر اے کیو آئی 400 سے اوپر پہنچنے پر گریپ-4 نافذ کرتے ہوئے اسکول بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی کے سرکاری اسکولوں میں تقریباً 18 لاکھ طلبا تعلیم حاصل کرتے ہیں اور دہلی میونسپل کارپوریشن کے تحت 8 لاکھ بچے پرائمری اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ اگر پوری دہلی کے تمام اسکولوں کے طلبہ کی بات کی جائے تو یہ تعداد تقریباً 45 لاکھ کے قریب پہنچتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 0 سے 10 سال کی عمر کے بچے آلودگی سے 43 فیصد متاثر ہوتے ہیں، جو عام متاثر ہونے والوں کے تناسب سے 5 فیصد زیادہ ہے۔ شدید آلودگی کے دوران پی ایم 10 اور پی ایم 2.5 کے ذرات کی زیادہ مقدار کے باعث طلبا سمیت ہر عمر کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں اور اسپتالوں میں پہنچنے والے مریضوں میں 8 فیصد افراد آلودگی سے متاثر ہوتے ہیں۔


دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی حکومت کو سرکاری اسکولوں اور میونسپل اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے لیے باقاعدہ ہیلتھ چیک اپ کی اسکیم فوری طور پر نافذ کرنی چاہیے۔ ہیلتھ چیک اپ کے ذریعے یہ معلوم ہو سکے گا کہ شدید آلودگی کے دوران اسکول آنے والے طلبا کن کن بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں، اور اگر صحت سے متعلق کوئی سنگین بیماری سامنے آئے تو اس کا علاج سرکاری اسپتالوں میں مفت کیا جانا چاہیے۔

دیویندر یادو کا کہنا ہے کہ زہریلی ہوا سے متاثر راجدھانی میں موجودہ بی جے پی حکومت آلودگی پر قابو پانے کے لیے کوئی نیا قدم نہیں اٹھا رہی بلکہ وہی اقدامات کر رہی ہے جو گزشتہ عآپ حکومت نے پورے 11 برسوں تک کیے اور دہلی کی عوام کو محض اعلانات اور ایونٹ مینجمنٹ کے ذریعے گمراہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے 37 فعال ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنوں میں سے 27 پر اے کیو آئی 400 سے تجاوز کر چکا ہے اور باقی 10 اسٹیشنوں پر بھی صورتحال انتہائی خراب ہے۔


دیویندر یادو نے کہا کہ کانگریس کی 15 سالہ حکومت کے دور میں سرکاری اسکولوں کے طلبا کی نظر، غذائیت، انیمیا، دانتوں، ذہنی صحت اور معذوری سے متعلق جانچ وقتاً فوقتاً کرائی جاتی تھی۔ اس مقصد کے لیے ایک ہیلتھ چیک اپ ٹیم تشکیل دی جاتی تھی اور اسے 10 سے 15 اسکولوں کی ذمہ داری سونپی جاتی تھی تاکہ سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے بچے جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند رہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں سے زیادہ عرصے سے سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کی صحت کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ دہلی کا مستقبل انہی طلبا سے وابستہ ہے، اس لیے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو چاہیے کہ وہ طلبا کی صحت جانچ کی اسکیم فوری طور پر نافذ کریں، تاکہ غریب، متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے طلبا، جو شدید آلودگی یا دیگر وجوہات سے متاثر ہوتے ہیں، ان کی صحت کا مکمل خیال رکھا جا سکے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔