غریبوں کے بینک کھاتوں میں 7500 روپے ڈالے جائیں: انل کمار

بھارت ماتا آج رورہی ہے، اس کے بچے بغیر کھانے اور پانی کےسڑکوں پر چل رہے ہیں۔‘ اور جو لوگ ملک اور دہلی پر حکومت کررہے ہیں وہ کم سے کم ان کی حالت کے بارے میں فکر مند تک نہیں ہیں۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری انل کمارچودھری نے دہلی حکومت سے کووڈ۔19 وبا کے بحران سے دوچار غریب لوگوں کے کھاتے میں 7500 روپے براہ راست ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انل چودھری نے جمعرات کو یہاں ریاستی دفتر میں منعقد ویڈیو کانفرنسنگ میں کرونا سپاہیوں کے لئے رسک الاؤنس دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے کیونکہ یہ کرونا مریضوں کے علاج میں اپنی زندگی داؤ پر لگارہے ہیں۔

انہوں نے دہلی والوں کے بجلی، پانی کے بل، پروفیشنل بلوں پر فکس چارج سے چھوٹ اور اسکولی طالب علموں کی فیس میں دو مہینے کی چھوٹ دینے کا بھی مطالبہ کیا کیونکہ لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے اور عام آدمی آج اس طرح کی رقم دینے کی حالت میں نہیں ہے۔

ریاستی صدر نے پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی کی بات دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ’’بھارت ماتا آج رورہی ہے، اس کے بچے بغیر کھانے اور پانی کےسڑکوں پر چل رہے ہیں۔‘ اور جو لوگ ملک اور دہلی پر حکومت کررہے ہیں وہ کم سے کم ان کی حالت کے بارے میں فکر مند تک نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہلی میں کووڈ۔19 وبا کے 51 دنوں کے لاک ڈاؤن کے باوجود کرونا کے معاملے کے خاتمہ کا کوئی اشارہ نہیں ہے کیونکہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 7998 کرونا کے مریض زیر علاج ہیں اور 106 لوگوں کی وائرس کی وجہ سے موت ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چونکانے والی بات یہ ہےکہ چوبیس گھنٹوں کے اندر کرونا سے بیس لوگوں کی موت ہوگئی اور14,748 لوگوں کو کورنٹائن کیا گیا ہے۔ روز بروز معاملے زیادہ سامنے آرہے ہیں، حالانکہ دہلی حکومت کی جانب سے دیئے گئے اعدادوشمار پر یقین نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ جب کرونا وائرس کے معاملوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے تو کانٹنمنٹ زون میں کیسے کمی آسکتی ہے؟ انہوں نے کہاکہ راجدھانی میں فی الحال 79 ہاٹ اسپاٹ ہیں جو کرونا کو پھیلنے کا اشارہ ہے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ انہوں نے ریاستی کانگریس کی جانب سے وزیراعلی اروند کیجری وال کو کئی مرتبہ خط لکھ کر کرونا بحران سے متعلق اہم مشورے دیئے ہیں اور ذاتی طور سے بات چیت کے لئے ان سے وقت مانگا ہے تاکہ صورت حال پر غوروفکر کیا جاسکے لیکن انہوں نے کبھی ملنے کی اجازت نہیں دی۔

انہوں نے کہاکہ کیجری وال حکومت کی جانب سے اشتہار کے لئے ٹیکس دہندگان کی محنت کی کمائی کو خرچ کرنے کے بجائے اس پیسے کو راجدھانی میں کرونا کی وبا کو روکنے پر خرچ کیا جانا چاہئے۔

next