پرینکا کا سوال اور دہلی کے خواتین کمیشن کا سی بی ایس ای کو نوٹس

کمیشن نے سی بی ایس ای کو اس سلسلے میں تفصیلی کارروائی کی رپورٹ فراہم کرنے کے لیے 72 گھنٹے کا وقت دیا ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

دہلی کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن سواتی مالیوال نے پیر کو سی بی ایس ای کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 10ویں بورڈ کے امتحان میں ایک خواتین مخالف آرٹیکل شائع کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

مالیوال نے کہا ’’یہ ناقابل قبول ہے کہ سی بی ایس ای نے اپنے امتحانی پرچے میں اس طرح کے توہین آمیز آرٹیکل کا استعمال کیا ہے جس سے تمام خواتین کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ اس طرح کے آرٹیکل نہ صرف خواتین کی آزادانہ شناخت پر حملہ آور ہوتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ صنفی دقیانوسی تصورات کو بھی فروغ دیتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’اسٹوڈٹنس اس ملک کا مستقبل ہیں، ان کی ترقی پسند سوچ ایسے آرٹیکل سے منفی طور پر متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے سی بی ایس ای کو تمام ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے اور کمیشن کو اس کی تفصیلات فراہم کرنے کے لیے 72 گھنٹے کا وقت دیا ہے۔‘‘

کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی اس معاملہ کا سخت نوٹس لیا اور سوال کیا کہ ہم اپنے طلباءکو آخر کیا پڑھا رہے ہیں ۔ سی بی ایس ای کی اس معاملہ میں تمام جانب سے مذمت ہو رہی ہے۔


دہلی کمیشن برائے خواتین نے اس قابل اعتراض آرٹیکل کا نوٹس لیا جس میں مصنف نے کہا تھا کہ خواتین میں آزادی اور برابری میں اضافہ کے سبب بچوں میں ڈسپلن شکنی بڑھ گئی ہے۔ اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کمیشن نے اس آرٹیکل کو نہ صرف خواتین مخالف قرار دیا بلکہ اسے بچوں میں منفی سوچ اور صنفی امتیاز کو فروغ دینے والا بھی قرار دیا۔

کمیشن نے کہا کہ مصنف کے مطابق جب عورتیں اپنے شوہروں کو گھر کا مالک سمجھ کر ان کی اطاعت کرتی تھیں تو بچے بھی فرمانبردار ہو تے تھے۔ مصنف کے مطابق، صرف اپنے شوہر کی ہر بات کو ماننے سے ہی وہ بچوں سے اطاعت شعاری حاصل کر سکتی ہے۔ اس کا مزید دعویٰ ہے کہ بیوی نے اپنی اطاعت سے دنیا کے سامنے فرمانبرداری کی مثال قائم کی۔


مصنف نے آرٹیکل میں جنسی اور دقیانوسی سطور کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ لوگ یہ دیکھنے میں ناکام رہے کہ جب سے بیویوں نے شوہر کے حکم کی نافرمانی کرنا شروع کر دی تب سے والدین کا اختیار اور بچوں پر خوف ختم ہونا شروع ہو گیا۔

معاملے کی سنگینی کے پیش نظر کمیشن نے سی بی ایس ای سے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد کمیشن کو مصنف سے متعلق تمام معلومات اور امتحانی پرچے میں اس طرح کے پدرانہ مضامین شائع کرنے والے ذمہ داروں کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی بھی اطلاع فراہم کرے۔ اسی طرح کمیشن نے سی بی ایس ای سے یہ بھی کہا کہ وہ وجوہات بتائے کہ صنفی امتیاز کا پرچار کرنے والے اس حوالے کو امتحان کے لیے کیوں منتخب کیا گیا اور کیا ماہرین نے اس کی جانچ کی تھی۔ کمیشن نے سی بی ایس ای کو اس سلسلے میں تفصیلی کارروائی کی رپورٹ فراہم کرنے کے لیے 72 گھنٹے کا وقت دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 14 Dec 2021, 7:40 AM