آلودگی کی وجہ سے دہلی بن گیا گیس چیمبر، کیجریوال کا ’دہلی ماڈل‘ گمراہ کن: کانگریس

دہلی کانگریس کے ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ کیجریوال جس دہلی ماڈل کی بات کر رہے ہیں وہ کانگریس کے زمانے میں تھی، اور اس وقت دہلی کو دنیا میں گرین سٹی کا درجہ حاصل تھا۔

کانگریس پارٹی / آئی اے این ایس
کانگریس پارٹی / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: دہلی کانگریس کمیٹی کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے کہا ہے کہ دیوالی کے بعد دہلی گیس چیمبر بن گئی ہے اور لوگ صاف ہوا کے لیے ترس رہے ہیں لیکن دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال مختلف ریاستوں کے انتخابی دورے کرکے وہاں کےعوام سے دہلی ماڈل کونافذ کرنے کی بات کر رہےہیں جو کافی گمراہ کن ہے۔

جمعہ کو جاری ایک بیان میں ڈاکٹر کمار نے کہا کہ کیجریوال جس دہلی ماڈل کی بات کر رہے ہیں وہ کانگریس کے زمانے میں تھی اور اس وقت دہلی کو دنیا میں گرین سٹی کا درجہ حاصل تھا، لیکن کیجریوال نے قومی دارالحکومت کو دنیا کا سب سے آلودہ شہر بنا دیا ہے اور یہاں کی ترقی نہیں کی ہے۔ دارالحکومت کو آلودگی سے نجات دلانے کے لیے انہوں نے ایک اسموگ ٹاور لگوایا تھا جو اس وقت خراب ہے۔

ڈاکٹر کمار نے کہا کہ کیجریوال گزشتہ کافی وقت سے دارالحکومت میں آلودگی کا ٹھیکرا پڑوسی ریاستوں میں جلائے جانے والے فصل کے باقیات (پرالی) پر پھوڑتے رہتے تھے لیکن حال ہی میں کیے گئے ایک تحقیق کی رپورٹ سامنے آئی ہے کہ دارالحکومت کی آلودگی میں سب سے زیادہ حصہ داری گاڑیوں کی ہے۔ دارالحکومت میں سڑکوں کی حالت ابتر ہے اور متبادل سڑکیں بھی نہیں بنائی گئی ہیں جس کی وجہ سے آلودگی کا مسئلہ دن بہ دن سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ گذشتہ دو دنوں سے راجدھانی میں ہوا کا معیار خطرناک حد تک پہنچ گیا ہے لیکن وزیر اعلیٰ کو راجدھانی میں آلودگی سے بالکل بھی کوئی تشویش نہیں ہے پانچ سال پہلے انہوں نے دہلی کو عالمی سطحی شہر بنانے کا جو دعویٰ کیا تھا وہ کھوکھلا ثابت ہو گیا ہے۔

ڈاکٹر نریش نے کہا کہ اگر کیجریوال جی کو راجدھانی کے عوام کی فکر ہوتی تو وہ آلودگی کو لے کر ہنگامی میٹنگ بلا تے لیکن ان کے پاس دوسری ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی مہم چلانے سے فرصت نہیں ہے، کبھی وہ گوا کے دورے پر رہتے ہیں اور کبھی کبھی لوگوں کے درمیان جاکر تہوار منانے کا ڈھونگ کر تے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ راجدھانی کے مضافات میں خاص طور پر دہلی کے دیہی علاقوں میں سڑکوں کی خستہ حالی کی وجہ سے، وہاں فضائی آلودگی بہت زیادہ ہےلیکن آج تک وزیر اعلیٰ نے ان علاقوں کی سڑکوں کو ویکیوم مشینوں سے صاف نہیں کیا ہے۔ اور نہ ہی یہاں پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا۔ یہ مشینیں صرف لوٹین زون کی گلیوں کی صفائی کے لیے ہیں کیونکہ انھیں عام آدمی کی نہیں خاص لوگوں کی زیادہ فکر ہے۔ اس بارش کے موسم میں دارالحکومت کے کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دارالحکومت میں ڈینگی میں اضافہ ہوا ہے۔ دارالحکومت میں لوگوں کے لیے کوئی کام نہ ہونے کی وجہ سے لیبر فورس نقل مکانی پر مجبور ہے۔

لوگوں کو کھلے میں کچرا جلانے سے روکنے کے لیے جمعرات سے دہلی میں تعینات 550 ٹیموں کی مہم پر طنز کرتے ہوئے ڈاکٹر نریش نے کہا کہ آخر دارالحکومت میں کتنے لوگ کھلے میں کچرا جلاتے ہیں، جن کے لیے یہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ بہتر ہوتا کہ ان ٹیموں کو پانی کے ٹینکروں کے ساتھ دہلی کے مختلف علاقوں میں پانی کے چھڑکاؤ کے لیے بھیجا جاتا تو شاید کچھ مدد مل سکتی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔