دہلی میں مقیم افغان شہریوں میں طالبان کو لے کر تشویش لیکن اشرف غنی پر غصہ

افغان شہری گولی اور مرنے سے نہیں ڈرتا کیونکہ اس کا یقین ہے کہ موت تو ایک مرتبہ ہی آئے گی لیکن ڈنڈے کھانے کی بے عزتی سے بہت ڈرتا ہے!

دہلی میں مقیم افغان شہری / تصویر قومی آواز
دہلی میں مقیم افغان شہری / تصویر قومی آواز
user

سید خرم رضا

نئی دہلی: افغانستان کے حالات کو لے کر سب کو تشویش ہے اور کسی کو سمجھ بھی نہیں آ رہا کہ وہاں پر سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا! الگ الگ ممالک میں موجود افغان اپنے ملک کے حالات کو لے کر بہت بے چین ہیں لیکن اپنی بے چینی کا اظہار نہیں کرتے۔ دہلی کا بھی ایک علاقہ ایسا ہی ہے جس کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے وہ چھوٹا افغانستان ہو۔ دہلی کے لاجپت نگر علاقہ میں ایک مارکیٹ میں جس طرف بھی آپ نظر ڈالیں گے وہاں افغان زبان میں دکان کے بورڈ ضرور پائیں گے۔ سڑک کے کنارے وہاں کی روٹیاں اور دیگر سامان بیچتے افغان نظر آ جائیں گے۔ یہاں پر افغان کھانوں کے مشہور ریستوراں ہیں جہاں بڑی تعداد میں افغانی اور ہندوستانی کھانا کھانے آتے ہیں۔

لاجپت نگر میں واقع مزار ریستراں / قومی آواز
لاجپت نگر میں واقع مزار ریستراں / قومی آواز

کابل ریستوراں میں چائے پینے کے دوران اندازہ ہوا کہ ریستوراں کے مالک دہلی میں مطمئن ہیں۔ جب ہم چائے پی رہے تھے تو ریستوراں کے دونوں پارٹنر جم سے ورزش کر کے واپس آئے تھے۔ کابل کے حالات کو لے کر ان کے چہروں پر زیادہ تشویش نظر نہیں آئی۔ ان کے بچے دہلی میں ہی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور والد اپنے بچوں کے ساتھ بے فکر نظر آئے لیکن جب ان سے وہاں کے حالات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ٹالنے والے انداز میں کہا ’جو آپ لوگوں کو خبروں سے پتہ لگ رہا ہے وہی ذریعہ ہمارا بھی ہے۔ بیس سال سے زیادہ مدت سے ہندوستان میں رہ رہے ان لوگوں کے رشتہ دار افغانستان میں ضرور رہتے ہیں لیکن ان کا دل دہلی میں ہی لگتا ہے۔


اس علاقہ میں واقع افغان کھانوں کے ایک مشہور ریستوران کا نام ’مزار‘ ہے۔ یہاں میز کرسی پر بیٹھ کر بھی کھانے پینے کا انتظام ہے اور افغان طریقہ سے تکیہ سے پشت ٹکا کر قالین پر بیٹھ کر بھی کھانا کھایا جا سکتا ہے۔ اس ریستوراں میں بھی مالک سے لے کر ویٹر اور کھانا بنانے والے، سب افغان شہری ہیں۔ یہاں کے ایک ملازم نے بتایا کہ اس ریستوراں کا نام افغان شہر ’مزارِ شریف‘ کے نام پر رکھا گیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ حضرت علی کی درگاہ مزار شریف میں موجود ہے، اس وجہ سے ہی شہر کا نام مزار شریف رکھا گیا تھا۔ یہاں جس تعداد میں ہر عمر کے افغان شہری کھانا کھانے آئے، اس سے لگتا تھا کہ انہیں افغانستان کے حالات کو لے کر زیادہ تشویش نہیں ہے۔

افغان روٹیاں / قومی آواز
افغان روٹیاں / قومی آواز

لاجپت نگر میں موجود افغان افراد ملک کے سیاسی حالات پر کوئی گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کو واپس کابل جانا ہے یعنی وہ ابھی طالبان کے خلاف یا حق میں بولنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ایک افغان شخص نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’’افغان شہری مرنے سے یا گولی سے نہیں ڈرتا لیکن وہ ڈنڈے سے ڈرتا ہے کیونکہ اس کو جو ڈندا پڑتا ہے وہ اس کی بے عزتی ہے اور وہ بے عزتی ہی اس کے لئے موت کے مترادف ہے۔ یہ بے عزتی اس کی زندگی بھر کی عزت کو مٹی میں ملا دیتی ہے۔‘ لاجپت نگر میں رہنے والے افغان شہری طالبان کے مقابلہ اشرف غنی سے زیادہ برہم نظر آتے ہیں۔ ایک شخص نے کہا ’’اشرف غنی جس انداز میں اپنے ساتھیوں کو بغیر بتائے ملک چھوڑ کر گئے ہیں اس نے بہت مایوس کیا۔‘‘


لاجپت نگر میں واقع افغان جنرل اسٹور / قومی آواز
لاجپت نگر میں واقع افغان جنرل اسٹور / قومی آواز

نام شائع نہ کرنے کی شرط پر ایک مزید افغان شہری نے بتایا کہ کس طرح اشرف غنی پیسہ لے کر ملک سے بھاگے اور ان کے مطابق پہلے اشرف غنی عمان گئے جہاں ان کی اہلیہ بھی موجود ہیں اور جب عمانی حکومت نے انہیں وہاں سے جانے کے لئے کہا تو وہ متحدہ عرب عمارات چلے گئے۔ لاجپت نگر میں افغان شہریوں کو افغانستان کے حالات پر تشویش بھی ہے اور ان کو سمجھ بھی نہیں آ رہا کہ مستقبل میں طالبان کا رویہ کیسا رہے گا لیکن وہ اشرف غنی سے بہت زیادہ ناراض ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 20 Aug 2021, 11:10 AM