دہلی: جس سیٹ پر نتیش-شاہ نے ساتھ کی ریلی، وہاں بی جے پی کو ملی ریکارڈ شکست

نتیش کمار اور امت شاہ کا امیدوار نہ صرف کیجریوال کے امیدواروں کے سامنے معذور نظر آیا، بلکہ یہ شکست 2020 میں دہلی کی سب سے بڑی شکست بن کر تاریخ میں درج ہو گئی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

دہلی اسمبلی الیکشن میں مودی-شاہ سمیت بی جے پی کے سبھی سرکردہ لیڈروں نے اپنی پوری طاقت لگا دی۔ یہاں تک کہ معاون پارٹی جنتا دل یو کے صدر اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بھی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ ریلی میں شامل ہوئے۔ لیکن عام آدمی پارٹی کے آگے ان کی ایک نہ چلی۔ دونوں کی مشترکہ طاقت نے بھی انھیں جیت نہ دلا سکی۔ نتیش کمار اور امت شاہ کا امیدوار نہ صرف کیجریوال کے امیدوار کے سامنے معذور نظر آیا بلکہ یہ شکست 2020 میں دہلی کی سب سے بڑی شکست بن کر تاریخ میں درج ہو گئی۔

دہلی اسمبلی انتخاب میں امت شاہ بالکل بے اثر ثابت ہوئے۔ امت شاہ کا گھر گھر گھومنا بھی کام نہ آیا۔ اس انتخاب میں سب سے بڑی شکست براڑی سے جنتا دل یو امیدوار شیلندر کمار کی ہوئی۔ انھیں عام آدمی پارٹی کے امیدوار سنجیو جھا نے ریکارڈ 88159 ووٹوں سے شکست دی۔ اس بار کے دہلی اسمبلی انتخاب میں یہ سب سے بڑی شکست ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سیٹ پر جیت کے لیے جنتا دل یو اور بی جے پی نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ دہلی اسمبلی کے لیے ہوئے معاہدہ کے تحت براڑی سیٹ جنتا دل یو کے حصے میں گئی تھی۔ جنتا دل یو نے اس سیٹ سے شیلندر کمار کو میدان میں اتارا تھا۔ ان کی حمایت میں 2 فروری کو بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور وزیر داخلہ امت شاہ نے براڑی میں عظیم الشان ریلی کی تھی۔ لیکن نتیش-شاہ کی مشترکہ طاقت تنہا اروند کیجریوال کے ’چہرہ‘ کے سامنے کمتر ثابت ہوئی۔

انتخابی کمیشن سے ملے اعداد و شمار کے مطابق براڑی سیٹ پر سنجیو جھا کو 139368 ووٹ ملے جب کہ جنتا دل یو کے امیدوار شیلندر کمار کو یہاں پر 51 ہزار 440 ووٹ ملے۔ جنتا دل یو سے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے بی جے پی کے اعلیٰ لیڈروں نے نتیش کے امیدوار کو پوری حمایت دی۔ ریلیاں بھی کیں، لیکن اس سیٹ پر زمینی حقیقت کچھ اور تھی۔

براڑی سیٹ جنتا دل یو کے حصے میں جانے سے مقامی سطح پر بی جے پی کے کارکن ناراض تھے۔ دراصل جنوری کے پہلے ہفتے تک اس سیٹ سے بی جے پی لیڈر گوپال جھا دعویداری ٹھوک رہے تھے۔ لیکن عین موقع پر یہ سیٹ جنتا دل یو کے حصے میں چلی گئی۔ اس کا اثر بی جے پی کارکنان پر پڑا اور وہ پورے دل سے جنتا دل یو امیدوار کی حمایت میں نہیں آ پائے۔ اس کا نتیجہ ووٹوں کی کٹوتی کی شکل میں دیکھنے کو ملا۔

عام آدمی پارٹی نے یہاں سے لگاتار دوسری بار جیت درج کی۔ 2015 میں ہوئے اسمبلی انتخاب میں عآپ کے سنجیو جھا نے بی جے پی کے گوپال جھا کو 67950 ووٹوں سے ہرایا تھا۔

next