دل والوں کی دلّی کا دل ’دلّی-6‘، اور اس دل کا ایک حصہ ’نئی سڑک‘

ایسا نہیں ہے کہ نئی سڑک پر صرف کتابیں ہی فروخت ہوتی ہیں،بلکہ یہاں کپڑے اور زیورات کی دکانیں بھی خوب ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ثنا سلطان

کیا آپ نئی سڑک کے بارے میں جانتے ہیں؟ پرانی دہلی میں واقع نئی سڑک مشہور کتابوں کے لیےہے۔ یہاں آپ کو ایسی پرانی سے پرانی کتابیں مل جائیں گی جس کی تلاش میں آپ در در کی ٹھوکریں کھا کر تھک چکے ہوں گے ۔ جو بھی تھوڑی سی مشقت یہاں کرتا ہے اس کی محنت رائیگاں نہیں جاتی اور پسندیدہ کتاب ہاتھ لگ ہی جاتی ہے۔

نئی سڑک تک پہنچنا آج بہت آسان ہو چکا ہے کیونکہ میٹرو سٹی دہلی میں اب کئی ایسے مقامات پر پہنچنا آسان ہے جہاں پہنچنے میں پہلے پریشانیاں بھی ہوتی تھیں اور وقت بھی ضائع ہوتا تھا۔ نئی سڑک پہنچنے کے لیے آپ چاندنی چوک میٹرو اسٹیشن پر اتر سکتے ہیں اور وہاں سے باہر نکل کر ٹاؤن ہال تک تھوڑا پیدل چلنا ہوگا۔ ٹاؤن ہال کے بالکل سامنے جاتی ہوئی سڑک ہی نئی سڑک کہلاتی ہے۔ ٹاؤن ہال سے شروع ہوئی نئی سڑک چاؤڑی بازار پر پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے۔

دل والوں کی دلّی کا دل  ’دلّی-6‘، اور اس دل کا ایک حصہ ’نئی سڑک‘

نئی سڑک کو نئی سڑک کیوں کہتے ہیں، یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ 1857 کی لڑائی کے بعد اس روڈ کی تعمیر انگریزوں نے کرائی تھی۔ اس وقت یہ سڑک بہت چوڑی ہوا کرتی تھی۔ اس کا نام ’ایگرٹن روڈ‘ تھا۔ چونکہ یہ سڑک نئی نئی بنی تھی اس لیے کچھ لوگ اسے ’نئی سڑک‘ کہہ کر ہی پکارنے لگے۔ پھر ایسا وقت آیا کہ ’ایگرٹن روڈ‘ کسی کو یاد نہیں رہا اور اس سڑک کا نام ’نئی سڑک‘ ہی پڑ گیا۔

دہلی کا دل صحیح معنوں میں دلّی 6 ہے اور یہیں پہنچ کر پتہ چلتا ہے کہ گزرے زمانوں میں لوگوں نے کس طرح کی زندگی بسر کی۔ یہاں پہنچ کر آپ آج بھی پرانی عمارتیں دیکھ سکتے ہیں جس میں روشن دان بنا ہوتا ہے۔ انہی پرانی عمارتوں میں دکانیں بھی کھلی ہوئی ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ خریداری کرنےا ٓتے ہیں اور کچھ لوگ یہاں کی چہل پہل کا نظارہ بھی کرنے آتے ہیں۔ خصوصاً غیر ملکی سیاح تو یہاں کی چکاچوندھ دیکھ کر حیران ہی رہ جاتے ہیں۔ نئی سڑک پر بھی ایسی عمارتیں اور دکانیں ہر طرف نظر آتی ہیں۔ اس جگہ آپ کو ہر طرح کی کتابیں مل جائیں گی، مثلاً اسکول کی کتابیں، گائیڈس، میڈیکل اور ڈینٹل کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمتوں کی کتابیں۔ اور یہ سبھی کتابیں آپ کو نئی اور پرانی دونوں طرح کی مل جائیں گی۔ یہاں کئی ایسی کتاب کی دکانیں موجود ہیں جو آزادیٔ ہند سے بھی پہلے سے چل رہی ہیں۔ ان میں آل انڈیا بک ہاؤس اور دِوّیہ پرکاشن وغیرہ شامل ہیں۔ دِوّیہ پرکاشن کے ساتھ ہی بینی مادھو میموریل ٹوٹوریل اسکول بنا ہوا ہے جو کہ 1934 میں بنا تھا اور آج تک چل رہا ہے۔ یہ اسکول چھوٹے بچوں کے لیے ہے اور علاقے میں کافی مشہور ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ نئی سڑک پر صرف کتابیں ہی فروخت ہوتی ہیں اور تعلیمی ادارے ہی بھرے ہوئے ہیں۔ یہاں کپڑے اور زیورات کی دکانیں بھی خوب ہیں۔ نئی سڑک پر آپ کو سلک، سوتی، ہاتھ کی کڑھائی، مشین کی کڑھائی، پینچ وَرک، راجستھانی سوٹ، جودھپوری سوٹ اور طرح طرح کی ساڑیوں کی دکانیں مل جائیں گی۔ اس جگہ دلہنوں کے کپڑے بھی خوب ملتے ہیں۔ ارون وستر بھنڈار، شری سادھنا ساڑیز، اندو ساڑیز وغیرہ ایسی دکانیں ہیں جہاں خریداروں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ الگ الگ شہروں سے لوگ یہاں شادی کے لہنگے اور زیورات خریدنے آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نئی سڑک پر موجود دکانوں میں سستے سے سستا اور مہنگے سے مہنگا، ہر طرح کا سامان دستیاب ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہاں اگر آپ خریداری کرنے کے مقصد سے پہنچے ہیں تو خریداری مکمل کیے بغیر جا ہی نہیں سکتے۔ ایک نہیں ہزاروں دکانیں آپ کا انتظار کرتی رہتی ہیں۔ آپ کسی ایک گلی میں گھسیں گے اور دکانوں کی قطار سے گزرتے ہوئے دوسری جگہ نکل جائیں گے اور آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ یہاں کی پتلی پتلی گلیوں میں بھی اچھی اچھی دکانیں مل جائیں گی۔

دل والوں کی دلّی کا دل  ’دلّی-6‘، اور اس دل کا ایک حصہ ’نئی سڑک‘

دوسرے ممالک سے آئے لوگ جب یہاں پہنچتے ہیں تو ان کے لیے سب کچھ حیران کن ہوتا ہے، کیونکہ اس طرح کا نظارہ وہ پہلے کبھی نہیں دیکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ بھیڑ بھاڑ تو ہوتی ہی ہے، پرکشش چیزیں بھی مل جاتی ہیں جو بیرون ممالک سے آئے سیاحوں کے لیے بہت اہم ہوتی ہیں۔ کچھ مقامات پر تو اس قدر بھیڑ ہوتی ہے کہ بیرون ملکی سیاحوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہندوستانی بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ یہاں واقعی لوگ خریداری کرنے پہنچے ہیں یا پھر کچھ مفت تقسیم ہو رہا ہے۔ کئی دکانوں کے باہر تو باضابطہ لائن لگی ہوئی نظر آ جاتی ہے۔ کچھ دکانوں میں دکاندار مائک سے اعلان کرتے ہوئے بھی نظر آئیں گے جو خریداروں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہی سب چیزیں ہیں جو نئی سڑک کو کچھ خاص بناتی ہیں۔ شام کےو قت تو نظارہ قابل دید ہوتا ہے جب چاروں طرف جگمگ روشنی ہوتی ہے۔ شام ہوتے ہی دکانیں روشن ہونے لگتی ہیں جو آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے۔ تہوار کے موقع پر خریداروں کی مزید بھیڑ سے یہ چکاچوندھ بھی مزید بڑھ جاتی ہے۔

جب آپ بھیڑ میں خریداری کریں گے تو یقیناً آپ کو بھوک اور پیاس کا بھی احساس ہوگا۔ اس کا بھی انتظام نئی سڑک پر ہے۔ بھوک مٹانے کے لیے یہاں کئی گلیوں میں نکڑ پر کھانے کی چیزیں فروخت ہوتی ہوئی نظر آ جائیں گی۔ کئی مقامات پر پھیری والے بھی گھومتے ہوئے نظر آئیں گے۔ گرمیوں میں آپ لوگوں کو یہاں برف کی چسکی (برف کا گولہ) لیتے اور سردیوں میں گرما گرم شکرقندی کھاتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ ہر موسم میں یہاں فروخت ہوتی کچوڑیوں کا بھی مزہ آپ لے سکتے ہیں۔ یہاں کچوڑیوں کی کئی مشہور دکانیں ہیں جن میں جے. بی. کچوڑی والا انتہائی مقبول ہے۔ اس دکان میں گزشتہ 10 سالوں سے کام کرنے والے کشن بتاتے ہیں کہ صبح 10 بجے یہ دکان کھلتی ہے اور رات کے 9 بجے تک بند ہو جاتی ہے، اور اس درمیان کوئی وقت ایسا نہیں ہوتا جب وہ خالی بیٹھ سکیں۔ وہ مزید بتاتے ہیں کہ 50 سالوں سے بھی زیادہ قدیم اس دکان سے کچوڑی خریدنے لوگ دور دور سےا ٓتے ہیں اور جو یہاں کھڑے ہو کر کھاتے ہیں وہ ایک کے بعد دوسری کچوڑی طلب کیے بغیر نہیں رہ پاتے۔

دل والوں کی دلّی کا دل  ’دلّی-6‘، اور اس دل کا ایک حصہ ’نئی سڑک‘

نئی سڑک ایک روڈ ضرور ہے لیکن یہ روڈ ان بڑے بڑے مال سے کہیں زیادہ خاص ہے جسے ایک بار میں آپ کے لیے دیکھنا اور گھومنا آسان نہیں۔ آپ مال میں جتنا وقت خرچ کرتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ وقت یہاں خرچ کرنا ہوگا اگر آپ کو ہر دکان کا نظارہ کرنا ہے تو 5-4 گھنٹے کیسے گزر جاتے ہیں پتہ ہی نہیں چلتا۔ پرانی دہلی کی یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں لوگوں کو ایک بار تو آنا ہی چاہیے، اور اگر وہ پورے علاقے کا نظارہ کرنا چاہتے ہیں تو پھر ان کا دوبارہ آنا بھی لازمی ہے۔