گندم خریداری میں تاخیر کسانوں کے لیے نقصان دہ: ڈاکٹر نریش کمار

ڈاکٹر نریش کمار نے گندم خریداری میں تاخیر پر دہلی حکومت کو نشانہ بنایا اور کہا کہ 85 فیصد فصل پہلے ہی فروخت ہو چکی، موجودہ بازار بھاؤ ایم ایس پی سے زیادہ ہے، فیصلہ کسانوں کو فائدہ نہیں دے گا

<div class="paragraphs"><p>ڈاکٹر نریش کمار / تصویر بشکریہ ایکس /&nbsp;DrNareshkr@</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے گندم خریداری کے حوالے سے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کیا گیا یہ اعلان نہایت تاخیر سے سامنے آیا ہے اور اس کا کسانوں کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی کسانوں کے مفاد میں سنجیدہ ہوتی تو یہ فیصلہ وقت پر لیا جاتا، کیونکہ اب تک تقریباً 85 فیصد کسان اپنی گندم کی فصل فروخت کر چکے ہیں۔

ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ موجودہ وقت میں بازار میں گندم کی قیمت تقریباً 2700 روپے فی کوئنٹل تک پہنچ چکی ہے، جبکہ کم از کم امدادی قیمت 2585 روپے فی کوئنٹل مقرر ہے۔ ایسے حالات میں کوئی بھی کسان کم قیمت پر اپنی فصل فروخت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی حالات، خاص طور پر ایران سے متعلق کشیدگی کے اثرات نے بھی اناج کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں بازار بھاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو صرف گندم ہی نہیں بلکہ سرسوں جیسی دیگر فصلوں کی خریداری بھی کم از کم امدادی قیمت پر یقینی بنانی چاہیے۔ ان کے مطابق فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے ذریعے خریداری کا نظام مضبوط بنایا جانا چاہیے تاکہ کسانوں کو براہ راست فائدہ مل سکے اور بیچولیوں کا کردار کم ہو۔

ڈاکٹر نریش کمار نے دہلی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ زمینی سطح پر کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کر رہی اور صرف اعلانات تک محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں میں سنجیدگی کا فقدان ہے اور کسانوں کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے صرف سیاسی بیانات دیے جا رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی جانب سے کانگریس لیڈروں کے بارے میں دیے گئے بیان، جس میں ذہنی توازن پر سوال اٹھایا گیا تھا، کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی زبان جمہوری اقدار کے خلاف ہے اور عوامی نمائندوں کو اس سے گریز کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر نریش کمار نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے مسائل کو نظر انداز کرنا ملک کی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے حکومت کو فوری طور پر سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسانوں کو حقیقی راحت فراہم کی جا سکے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔