مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اب ڈیفنس ملازمین کریں گے ملک گیر ہڑتال

کانگریس، لیفٹ اور بی جے پی سے جڑی تنظیموں نے مل کر 23-25 جنوری کو مودی حکومت کی نجکاری پالیسیوں کے خلاف ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

By بھاشا سنگھ

کسانوں کے بعد اب ملک بھر کے ڈیفنس ملازمین مرکز کی نریندر مودی حکومت کے خلاف سڑک پر اترنے کی تیاری کر رہے ہیں، انہوں نے 23-25 جنوری، 2019 کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے، جس میں چار لاکھ ڈیفنس ملازمین کے شامل ہونے کا امکان ہے، ان کا کہنا ہے کہ مرکز کی مودی حکومت نے ڈیفنس سیکٹر کو جس طرح سے نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سے تمام ملازمین کے سامنے اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لئے ایک بحران سا کھڑا ہو رہا ہے، ملک کی 41 آرڈیننس فیكٹريوں میں سے 21 آرڈیننس فیکٹریاں گہرے بحران میں ہیں۔

اس ہڑتال میں لیفٹ پارٹیاں، کانگریس اور بی جے پی سے جڑی یونینیں شریک ہیں، ان تمام تنظیموں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے میک ان انڈیا ان ڈیفنس کے نام پر ہندوستان کی موجودہ ڈیفنس کی صلاحیت کو درکنار کیا ہے، اس سے پہلے بھی ڈیفنس فیڈریشن نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومت کی یقین دہانی کے بعد اسے واپس لے لیا گیا تھا۔

اس دوران حکومت نے اپنے وعدوں کے الٹ نہ صرف آرڈیننس فیکٹریوں کے آرڈر میں کمی کی، بلکہ 14 ای ایم ای ورکشاپ بھی بند کر دیئے ہیں، اسی کے خلاف ڈیفنس-سول ورکرز کی تین رجسٹرڈ یونینوں نے جنوری میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

قومی آواز میں ہم مسلسل آرڈیننس فیکٹریوں کے پاس ڈیفنس سے آرڈر نہ ملنے، آرڈیننس فیکٹریوں پر انحصار چھوٹی اور درمیانی انڈسٹریز (ایم ایس آئی ای) تباہی کے دہانے پر پہنچنے سے متعلق مسائل پر رپورٹ کرتے رہے ہیں، اب حالات قابو سے باہر ہو رہے ہیں کیونکہ اس میں سرکاری-فوجی ملازمین کے ساتھ ساتھ تمام آرڈیننس فیکٹریوں میں کام کرنے والے ملازمین بھی شامل ہو رہے ہیں، اس ہڑتال کے اعلان میں جس طرح سے تینوں اہم فیڈریشن شامل ہیں، اس سے ایک بات صاف ہو جاتی ہے کہ نچلے سطح کے ملازمین میں مرکزی حکومت کی ان پالیسیوں کے خلاف گہرا غصہ ہے۔

مختلف آرڈیننس فیكٹريوں اور ڈیفنس انڈسٹری میں تقریباً 40 سال کام کرنے کا تجربہ رکھنے والے ایس ایم پاٹھک کا کہنا ہے کہ روزگار دینے کے بجائے مودی حکومت برسر روزگار لوگوں کا بھی روزگار چھین رہی ہے۔ وہ فی الحال جبل پور میں ہیں۔ جبل پور آرڈیننس فیکٹری میں حالت بے حد خراب ہیں ورک آرڈر کم کر دیئے گئے ہیں جس فیکٹری ملازمین میں بے چینی اور مایوسی چھا گئی ہے۔ انہوں نے کہا "سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی نے ہمارے مطالبات کو مانتے ہوئے اینول ڈئریكٹ ریکروٹمنٹ پلان (اے ڈی آر پی) کو ہٹا دیا تھا، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں نوجوانوں کو ملازمت ملنے کا راستہ کھلا تھا۔ ٹریننگ اور انٹرنشپ-اسکل ڈیولپمنٹ ہونا شروع ہوگیا تھا، لیکن مودی حکومت نے آتے ہی اسے واپس نافذ کر دیا. اب نئی بھرتی پر تو مکمل طور پر روک لگ ہی گئی ہے، ساتھ ہی کام کو بھی آاٹسورس کر دیا گیا ہے. جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں نوجوانوں کی بھرتی کا راستہ کھلا تھا. ٹریننگ اور انٹرنشپ-اسکل ڈیولپمنٹ ہو رہا تھا، لیکن مودی حکومت نے آتے ہی اسے واپس لے لیا، اب نئی بھرتی پر تو مکمل طور پر روک لگ ہی گئی ہے، ساتھ ہی کام کو بھی باہر سے کرایا جانے لگا ہے، رشوت خوری کی وجہ سے عام لوگوں کے پیسے سے بنی آرڈیننس فیکٹریوں کے مقابلے میں نجی کمپنیوں کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے، اس کے خلاف جنوری میں ایک بڑی ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے جو بے حد ضروری ہے"۔

بی جے پی سے جڑی یونین ’بھارتی پرتِشَا مزدور سنگھ‘ کے رہنما سادھو سنگھ نے نوجيون کو بتایا "حکومت ہماری نہیں سن رہی، تو ہم کیا کریں، ہمیں تو مزدوروں کی سننی پڑے گی، نہیں تو ہمیں گالی پڑے گی، سب کہتے ہیں حکومت ہماری ہے، پر ہماری سن تو نہیں رہی ہے۔ پچھلی بار ہم سب نے حکومت کی یقین دہانی پر ہڑتال کا اعلان واپس لے لیا تھا، اس نے کہا تھا کہ ڈیفنس سویلین میں کوئی کٹوتی نہیں کریں گے، لیکن 14 ای ایم ای بند کر دی گئیں، آرڈیننس کا آرڈر ٹھیک سے واپس نہیں کیا گیا، اب ہڑتال کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ "یہ یونین بھارتی مزدور سنگھ (بی ایم ایس) کا حصہ ہے۔

آل انڈیا ڈیفنس ایمپالائج فیڈریشن، جس نے سب سے پہلے ڈیفنس میں نجکاری کی مخالفت میں آواز اٹھانی شروع کی تھی، اس فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل سی کمار نے بتایا "مودی حکومت کا میک ان انڈیا ان ڈیفنس 100 فیصد جھوٹ ہے، ابھی تک ہم جو کر رہے تھے، اسے بھی مودی حکومت باہر کے لوگوں کو سونپ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 40 سال سے اس فیلڈ میں ہوں، میں پہلی بار ایسا دیکھ رہا ہوں کہ 21 آرڈیننس فیکٹریوں کے پاس کام نہیں ہے، کیونکہ حکومت نے ان کے پروڈكٹس کو باہر کے لوگوں کو دے دیا ہے۔ ہمارا دوسرا مطالبہ ہے کہ سول ڈیفنس ملازمین کے لئے جو امتیازی سلوک والی پنشن اسکیم (این پی ایس‘ لے کر آئے ہیں، اسے فوری طور پر ختم کریں کیونکہ اس سے ہمارا مستقبل غیر محفوظ ہو جاتا ہے، مودی حکومت کسان مخالف ہی نہیں، ڈیفنس سیکٹر مخالف بھی ہے"۔

اس بارے میں راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ بینائے وشوم نے 17 نومبر، 2018 کو وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر اس امتیازی سلوک کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کرنے کو کہا، ان کا کہنا ہے کہ این پی ایس سے سول ڈیفنس سیکٹر کے ملازمین کو پنشن رقم کی سیکورٹی سے محروم ہونا پڑے گا۔