’ کسانوں سے ہر روز مذاکرات کر کے ان کے مفاد میں فیصلہ لیا جانا چاہیے‘

سچن پائلٹ نے کہا کہ مرکزی حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہندوستان کے کسان اور نوجوانوں کی طاقت بی جے پی کے جھوٹ اور ناانصافی کی بنیاد کو ہلانے کے قابل ہے۔

اشوک گہلوت، تصویر آئی اے این ایس
اشوک گہلوت، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

جے پور: راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کاشتکاروں سے ہرمیٹنگ کے درمیان وقت نہ لے کران سے روز بات کرنی چاہیے اور ان کے مفاد میں فیصلہ لیا جانا چاہیے۔ اشوک گہلوت نے سوشل میڈیا کے ذریعہ کہا کہ مرکزی حکومت کسانوں کے ساتھ ہر مذاکرت کے درمیان چار دن کیوں لے رہی ہے۔ کسانوں نے اپنا نظریہ واضح کردیا ہے کہ مرکزی حکومت ان زرعی قوانین کو واپس لے۔ سرد موسم میں حکومت کو ہر روز کسانوں سے بات چیت کرنی چاہیے اور ان کے مفاد میں فیصلہ لینا چاہیے۔

اشوک گہلوت نے کہا کہ اگر عوامی جذبات کو دیکھنے کے بعد حکومت کو کوئی قانون واپس لینا ہے تو جمہوریت میں اس کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ مرکزی حکومت کو اسے اپنی ساکھ کا سوال نہیں بنانا چاہیے۔ کسان ہمارے ان داتا ہیں اور ان کا مطالبہ ماننا حکومت کا اخلاقی فرض ہے۔

دوسری جانب سابق نائب وزیر اعلی سچن پائلٹ نے بھی کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ہمارے نوجوانوں پر بے روزگاری کا بوجھ ڈالنے اور کسانوں کے حقوق چھیننے کی کوشش ملک دشمن نظریے کی علامت ہے۔ مرکزی حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہندوستان کے کسان اور نوجوانوں کی طاقت بی جے پی کے جھوٹ اور ناانصافی کی بنیاد کو ہلانے کے قابل ہے۔

سچن پائلٹ نے کہا کہ کسانوں کی سخت محنت کی وجہ سے ہمیں اجناس دستیاب ہے۔ کالے قانون نافذ کرکے مرکزی حکومت نے کسانوں کو مشتعل کرنے پر مجبور کیا اور ان کی لڑائی کو لاٹھی اور گولی کے دم پر دبانے کی کوشش ہے کہ بی جے پی میں کسانوں کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


پسندیدہ ترین
next