’ایودھیا معاملہ پر فیصلہ سے دو بھائیوں کے درمیان اختلاف ختم ہو گیا‘

صبح کے وقت جیسے جیسے فیصلے کی گھڑی نزدیک آ رہی تھی، لوگ اپنے گھروں میں قید ہو کر TV کے سامنے بیٹھنے لگے تھے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد اقلیتی طبقہ کو کچھ مایوسی ضرور ہوئی، لیکن سکون کا سانس لیا

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

ناظمہ فہیم

اتر پردیش کا ضلع مراد آباد ان 31 حساس اضلاع میں شامل تھا جس کو بابری مسجد-رام مندر اراضی تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ سے قبل حساس قرار دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی کے ذریعہ فیصلہ پڑھے جانے سے پہلے علاقے میں ماحول کافی کشیدہ تھے اور ہر کسی کے ذہن میں یہی چل رہا تھا کہ فیصلہ کیا آئے گا اور اس پر لوگوں کا رد عمل کیا ہوگا۔ لیکن ایک صدی سے بھی زیادہ وقت سے چل رہا تنازعہ آخر کار اپنے انجام کو پہنچا اور سب سے اچھی بات یہ رہی کہ مراد آباد میں کسی بھی طرح کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

فیصلہ صادر ہونے کے بعد شہر امام سید معصوم علی آزاد نے ’قومی آواز‘ کے نمائندہ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ’’یقیناً وہاں بابری مسجد تھی جسے ایک وقت میں شہید کر دیا گیا تھا۔ دوسرے طبقہ کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ مندر توڑ کر مسجد بنائی گئی ہے، لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ بات صاف طور پر کہہ دی گئی کہ مسجد کی تعمیر مندر توڑ کر نہیں ہوئی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’سپریم کورٹ کے فیصلے کا ہر مسلمان احترام کرتا ہے اور اس کو قبول کرتا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ امن و امان قائم رکھیں اور مسلمان صبر سے کام لیں کیونکہ یہی سب سے بڑا عمل ہے۔‘‘

بی جے پی لیڈر دیا شنکر پانڈے نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ رام مندر اور بابری مسجد تنازعہ کی وجہ سے دو بھائیوں یعنی ہندو اور مسلمان کے درمیان جو اختلاف پیدا ہو گیا تھا، وہ اب ختم ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اس تنازعہ کے ختم ہونے کے ساتھ ہی اس پر سیاست کرنے والوں کے منھ بھی بند ہو جائیں گے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ امن و امان کی فضا قائم رکھیں۔‘‘

سماجوادی پارٹی کے سابق ضلع صدر اطہر انصاری ایودھیا تنازعہ کو انتہائی حساس ترین معاملہ قرار دیتے ہوئے ’قومی آواز‘ سے کہا کہ ’’یہ تنازعہ برسوں سے چل رہا تھا کیونکہ یہ ایشو مذہبی عقیدت سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلہ نے اس ایشو کو پوری طرح سے ختم کر دیا ہے جو اطمینان بخش بات ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’جو بھی اختلافات دو مذاہب کے درمیان تھے وہ اب نہیں رہیں گے۔ ہندو اپنی پوجا کریں، ہم اپنی عبادت کریں اور ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو پروان چڑھانے میں اپنا تعاون پیش کریں۔‘‘ جمعیۃ المنصور سے سے منسلک صلاح الدین منصوری نے بھی عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا احترام کرنے کی اپیل عوام الناس سے کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام ہم سب کو کرنا چاہیے اور ملک میں امن و امان برقرار رکھنا سبھی کی ذمہ داری ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ شب جیسے ہی میڈیا کے حوالے سے یہ خبر آئی کہ 9 نومبر کی صبح 10.30 بجے بابری مسجد-رام جنم بھومی اراضی مقدمہ پر فیصلہ آئے گا، تو عوام سے لے کر ضلع و پولس انتظامیہ میں ایک کھلبلی سی مچ گئی۔ اعلیٰ افسران جہاں دیر رات تک سڑکوں پر گشت کرتے رہے، وہیں عوام نے گھروں میں کھانے پینے کی چیزوں کا انتظام کرنا شروع کر دیا۔ مراد آباد چونکہ حساس علاقہ ہے، اس لیے سبھی کے ذہن میں ایک انجانا خوف بیٹھ چکا تھا۔

صبح کے وقت جیسے جیسے فیصلے کی گھڑی نزدیک آ رہی تھی، لوگ اپنے گھروں میں قید ہو کر ٹی وی کے سامنے بیٹھنے لگے تھے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد اقلیتی طبقہ میں کچھ مایوسی ضرور تھی، لیکن وہ سکون کا سانس اس لیے لے رہے تھے کہ کسی جگہ سے ناخوشگوار واقعہ ہونے کی خبر موصول نہیں ہوئی۔ اکثریتی طبقہ میں فیصلہ کو لے کر خوشی تھی اور اچھی بات یہ تھی کہ انھوں نے اس موقع پر بطور جشن کوئی ہنگامہ برپا نہیں کیا۔ اکثریتی اور اقلیتی طبقہ دونوں نے ہی سپریم کورٹ کے فیصلہ کو قبول کر لیا۔

Published: 9 Nov 2019, 7:11 PM