جنوبی انڈمان کے علاقے میں تیس فیصد کم پانی کی سپلائی کا فیصلہ

انتظامیہ کے مطابق 23-2022 کے دوران مانسون کی کمی کی وجہ سے جنوبی انڈمان کے تمام ذرائع بشمول دھنیکھری ڈیم میں پانی کا ذخیرہ کافی حد تک کم ہو گیا ہے۔

آلودہ پانی کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس
آلودہ پانی کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

پورٹ بلیئر: انڈمان و نکوبار انتظامیہ نے مانسون کی کمی کے بعد پورٹ بلیئر اور اس سے ملحقہ جنوبی انڈمان کے علاقے کو پانی کی فراہمی میں 30 فیصد تک کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس علاقے کے مکینوں کو اب متبادل دنوں میں موجودہ شیڈول کے بجائے 9 مارچ سے تین دن میں ایک بار پانی ملے گا۔ انتظامیہ کے مطابق23-2022 کے دوران مانسون کی کمی کی وجہ سے جنوبی انڈمان کے تمام ذرائع بشمول دھنیکھری ڈیم میں پانی کا ذخیرہ کافی حد تک کم ہو گیا ہے۔

ایک پریس ریلیز میں انتظامیہ نے ہفتہ کو بتایا کہ" موجودہ صورتحال اور اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ مئی/جون 2023 میں اگلی جنوب مغربی مانسون کی آمد تک دستیاب پانی کے ذخیرے کو منظم کرنے کی ضرورت ہے، پانی کی مقدار میں تیس فیصد تک کمی لانا ناگزیر ہو گیا ہے۔‘‘ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ، انڈمان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ اور پورٹ بلیئر میونسپل کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں آنے والے خطہ کے تمام علاقوں میں تخفیف شدہ پانی کی فراہمی ہوگی۔


پورا پورٹ بلیئر شہر اور جنوبی انڈمان خطہ زیادہ تر پانی کی سپلائی کے لیے صرف دھنیکھڑی ڈیم پر انحصار کرتا ہے اور کم بارش کی صورت میں اس علاقے کے لوگ فروری، مارچ، اپریل اور مئی کے دوران پانی کی سپلائی میں بھاری کمی کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ عام طور پر مئی کے وسط تک مانسون کی آمد کے ساتھ صورت حال بہتر ہوتی ہے جس کے بعد جزیرے والوں کو راحت ملتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 05 Mar 2023, 10:11 PM