دہلی تشدد: نالوں سے لاش نکلنے کا سلسلہ جاری، میرٹھ کے حمزہ کی لاش دیکھ رو پڑے اہل خانہ

میرٹھ کا باشندہ حمزہ دہلی کے مصطفیٰ آباد میں بہنوئی کے گھر رہتا تھا۔ وہ چاؤمین کا ٹھیلا لگاتا تھا اور فساد کے 2 دن بعد دیکھنے نکلا تھا کہ اس کی دکان کو نقصان تو نہیں پہنچا۔ اس دن سے ہی حمزہ لاپتہ تھا۔

تصویر آس محمد کیف
تصویر آس محمد کیف
user

آس محمد کیف

نئی دہلی: 24 فروری کے بعد سے تین دن تک دہلی میں ہوئے تشدد نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دہلی کے اس تشدد نے ہندوستان کی شبیہ کو بھی دنیا بھر میں نقصان پہنچایا ہے۔ حالات اتنے خراب ہیں کہ لگاتار نالوں سے لاش برآمد ہو رہے ہیں۔ تازہ معاملہ میں میرٹھ کے ایک نوجوان حمزہ انصاری کی لاش نالے سے برآمد ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 25 سال کے حافظ حمزہ دہلی تشدد کے دو دن بعد گھر سے باہر اپنی دکان کا جائزہ لینے کے لیے نکلا تھا۔ جمعرات کو اس کی لاش دیال پور علاقہ واقع نالے سے ملی۔ حمزہ کی موت کی خبر ملنے کے بعد اہل خانہ میں ماتم کا ماحول پھیل گیا۔

حمزہ کی لاش نالے سے برآمد ہونے کے بعد اس کے چچازاد بھائی شاہ ویز نے قومی آواز کے نمائندہ کو بتایا کہ دہلی کے تھانہ دیال پور علاقہ میں حمزہ کی لاش پڑی ہوئی ملی جسے وہ آج لے کر میرٹھ پہنچنے والے ہیں۔ دراصل حمزہ میرٹھ کے تھانہ لساڑی گیٹ علاقہ کا رہنے والا ہے اور اس کے والد کا نام غیاث الدین ہے۔ حمزہ دہلی کے مصطفیٰ آباد میں اپنے بہنوئی عارف کے گھر میں رہتا تھا۔ وہ مصطفیٰ آباد واقع ترپال فیکٹری کی گلی نمبر 9 میں رہتا تھا اور وہیں چاؤمین کا ٹھیلا لگاتا تھا۔ جلد ہی اس کی شادی ہونے والی تھی، لیکن اس حادثے نے اس کے پورے گھر کو ماتم کدہ بنا دیا۔

قابل ذکر ہے کہ دہلی میں اب تک 53 لوگوں کی موت تشدد کی وجہ سے ہو گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 24 فروری کو دہلی میں ہوئے فسادات کے بعد حمزہ نے کئی دن تک ٹھیلا نہیں لگایا تھا اور گھر سے باہر بھی نہیں گیا تھا۔ فساد کے دو دن بعد اس نے گھر والوں سے کہا کہ ماحول کچھ بہتر ہے اس لیے اپنی دکان کو دیکھنے جانا چاہیے تاکہ پتہ لگے کہ کہیں فسادیوں نے اسے کچھ نقصان تو نہیں پہنچایا۔

حمزہ کے بہنوئی عارف کا کہنا ہے کہ "وہ ٹوپی پہنتا تھا اور داڑھی بھی رکھے ہوئے تھا۔ اس وجہ سے میں نے حمزہ کو باہر نکلنے سے منع کیا، لیکن وہ نہیں مانا۔ اس کے بعد وہ لاپتہ ہو گیا۔ دہلی میں ہوئے پرتشدد واقعات کو دیکھتے ہوئے ہمیں کسی انہونی کا ڈر لگ رہا تھا۔ آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ جمعرات کو دیال پور پولس کو نالے سے ایک لاش ملی۔ یہ لاش حمزہ کی تھی۔" عارف نے مزید کہا کہ "حمزہ کے لاپتہ ہونے کی خبر میں نے پولس کو دی تھی۔ حمزہ کا فون اس کے غائب ہونے والے دن سے ہی بند تھا اور یہ بات بھی میں نے پولس کو بتا دی۔" جمعرات کو لاش کی شناخت کرنے کے لیے عارف کو پولس نے طلب کیا تھا، اور پھر عارف نے بتایا کہ لاش حمزہ کی ہی ہے۔

حمزہ کی موت کی خبر ملنے کے بعد میرٹھ کے لساڑی گیٹ علاقہ اور اس کے اہل خانہ میں ماتم کا ماحول قائم ہو گیا۔ آج پوسٹ مارٹم کے بعد حمزہ کا جسد خاکی میرٹھ لے جایا جائے گا۔ مقامی لوگ اس کے جنازے کا انتظار کر رہے ہیں۔ میرٹھ کے بدر علی نے حمزہ کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ " اس موت کی خبر بہت ہی تکلیف دہ ہے۔ حمزہ روزی روٹی کمانے کے مقصد سے دہلی گیا تھا۔ اب وہ کفن میں ملبوس ہو کر لوٹ رہا ہے، یہ اندوہناک ہے۔"

next