قومی

دہلی: CBSE بارہویں میں اوّل آنے والی شیف کی بیٹی ثنا نیاز بننا چاہتی ہیں آئی اے ایس افسر

سی بی ایس ای بارہویں کا نتیجہ گزشتہ دنوں جاری ہوا اور شیف کی بیٹی ثنا نیاز نے دہلی کے سرکاری اسکولوں میں پہلا مقام حاصل کر ثابت کر دیا کہ محنت اور لگن کے سامنے معاشی مسائل کی شکست ہوتی ہے۔

تصویر بذریعہ ثنا نیاز
تصویر بذریعہ ثنا نیاز

تنویر احمد

رمضان کے مبارک مہینہ کی آمد سے ٹھیک پہلے ثنا نیاز کے لیے خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا جب اسے پتہ چلا کہ اس نے سی بی ایس ای (بارہویں) میں 97.6 فیصد نمبر کے ساتھ دہلی واقع سرکاری اسکول کے طلباء میں پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ اس کے لیے یہ خوشی کی بات تھی بھی کیونکہ محدود ذرائع، گھر کی معاشی حالت اور بغیر ٹیوشن کے اس طرح کی کامیابی حاصل کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ لیکن ثنا نیاز نے اپنی محنت سے ثابت کیا کہ ناممکن کچھ بھی نہیں۔

’قومی آواز‘ نے جب ثنا نیاز سے بات کی تو وہ بہت پرجوش نظر آ رہی تھیں اور انھوں نے کہا کہ ’’میں یہ تو نہیں سوچ رہی تھی کہ دہلی کے سرکاری اسکولوں میں پہلا مقام حاصل ہوگا، لیکن اچھے نمبرس کے لیے محنت خوب کر رہی تھی، اور میرے والدین بھی میری ہر قدم پر حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔‘‘ دراصل ثنا نیاز کے والد نیازالدین شیف ہیں اور ان کی ماں عاصمہ خاتون خانہ ہیں۔ انھوں نے اپنے بچوں کی تعلیم پر ہمیشہ خاص توجہ دی اور اس کا نتیجہ ہے کہ ثنا نیاز نے پوری دہلی کے سرکاری اسکولوں میں پہلا مقام اور پورے ہندوستان کے سرکاری اسکولوں میں تیسرا مقام حاصل کیا۔ یہ بات ’قومی آواز‘ کو ثنا کی والدہ نے خود بتائی اور اپنی بیٹی کی بہترین کارکردگی کے لیے اللہ کا شکر بھی ادا کیا۔

راجکیہ سروودے کنیا ودیالیہ نمبر 2، جامع مسجد (اردو میڈیم) سے تعلیم حاصل کرنے والی ثنا نیاز ’قومی آواز‘ سے بات چیت کے دوران اس بات پر خوشی ظاہر کرتی ہیں کہ انھیں نیلم میڈم (اسکول پرنسپل) اور مہر جمال (اردو ٹیچر) کی سرپرستی ہمیشہ حاصل رہی اور انھوں نے ہر موقع پر تعاون کیا۔ جب ’قومی آواز‘ نے ثنا نیاز سے یہ پوچھا کہ سرکاری اسکول کے تعلیمی معیار اور پرائیویٹ اسکول کے تعلیمی معیار میں بہت فرق ہونے کی باتیں سامنے آتی رہتی ہیں، ایسی صورت میں انھیں کس طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، تو وہ کہتی ہیں کہ ’’سرکاری اسکولوں میں بھی تعلیم کا معیار اب بہتر ہو چکا ہے۔ ٹیچر، کلاس روم، لیب... یہ سب چیزیں سرکاری اسکول میں بھی اچھے ہیں اور دہلی کے سرکاری اسکولوں میں معیارِ تعلیم میں کافی مثبت تبدیلی بھی گزشتہ کچھ سالوں میں آئی ہے۔‘‘

اب ثنا نیاز اپنے مستقبل کی تیاریوں میں مصروف ہو جانا چاہتی ہے اور وہ کہتی ہے کہ ’’میں گریجویشن کے ساتھ ساتھ سول سروسز کی تیاری کروں گی اور انشاء اللہ اس مقصد میں بھی مجھے کامیابی ملے گی۔‘‘ چار بہنوں اور ایک بھائی میں ثنا نیاز چوتھے نمبر پر ہے اور وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہے کہ گھر میں ہر شخص تعلیم کی اہمیت کو سمجھتا ہے اور کبھی بھی اس کی حوصلہ شکنی نہیں ہوئی۔ یہاں قابل غور یہ بھی ہے کہ ثناء کی بڑی بہن عمرہ نے 17-2016 میں دہلی کے سرکاری اسکولوں میں سیکنڈ پوزیشن حاصل کی تھی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ تعلیم کے تئیں ان کے گھر میں کس قدر بیداری ہے۔

ثنا نیاز کی والدہ عاصمہ کا کہنا ہے کہ ’’عمرہ بھی پڑھنے میں تیز تھی اور ثنا نیاز نے تو دہلی میں پہلا مقام حاصل کیا۔ ہمارے لیے یہ انتہائی مسرت آمیز لمحہ ہے۔‘‘ جب ’قومی آواز‘ نے ان سے یہ پوچھا کہ ان کی بیٹیاں پڑھنے میں کافی تیز ہیں تو کیا ان کا داخلہ پرائیویٹ اسکولوں میں کرانے کی کوشش نہیں کی گئی، تو انھوں نے کہا کہ ’’ہم لوگوں نے ہمیشہ سرکاری اسکولوں میں ہی بچوں کو پڑھایا کیونکہ اپنے بجٹ سے متعلق ہم جانتے تھے۔ ویسے بھی سرکاری اسکولوں کی پڑھائی میں ہمیں ایسی کوئی کمی نظر نہیں آئی کہ افسوس ہو۔‘‘

Published: 7 May 2019, 5:10 PM