اترپردیش: دلتوں پر مظالم جاری، امیٹھی میں پردھان کے شوہر کو زندہ جلایا گیا

مہلوک کا ایک آڈیو سامنے آیا ہے جس میں وہ گاؤں کے ہی کے. کے. تیواری، آشوتوش، راجیش مشرا، روی اور سنتوش پر آگ لگانے کا الزام عائد کرتا ہوئے سنائی دے رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت میں دلتوں پر مظالم کے واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ ایک نیا معاملہ امیٹھی سے سامنے آیا ہے جس نے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جمعرات کی شب ایک دلت پردھان کے شوہر کو کچھ لوگوں نے اغوا کیا اور پھر زندہ جلا دیا۔ علاج کے لیے لکھنؤ کے ٹراما سنٹر لے جاتے وقت راستے میں ہی ان کی موت ہو گئی۔

قتل کے بعد سے گاؤں میں کشیدگی کا ماحول ہے۔ گاؤں میں پولس فورس تعینات ہے اور میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق اس واقعہ میں پولس نے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولس کے مطابق دل دہلا دینے والا یہ واقعہ منشی گنج کے بندوئیا گاؤں کا ہے جہاں کے گرام پردھان چھوٹکا کے شوہر ارجن جمعرات کی صبح گھر سے کہیں جانے کے لیے نکلے تھے۔ اس کے بعد جب ارجن کافی دیر تک گھر نہیں لوٹے تو ان کے بیٹے سریندر نے پولس کو اس کی خبر دی۔

بتایا جاتا ہے کہ رات تقریباً ساڑھے دس بجے ارجن آدھی جلی ہوئی حالت میں ایک مقامی باشندہ کرشن کمار کے احاطے میں ملا۔ آناً فاناً میں انھیں ضلع اسپتال لے جایا گیا جہاں سے آج صبح انھیں لکھنؤ کے ٹراما سنٹر ریفر کر دیا گیا، لیکن راستے میں ہی ان کی موت ہو گئی۔

مہلوک کے اہل خانہ نے گاؤں کے ہی باشندہ کے. کے. تیواری، راجیش مشرا، روی اور سنتوش پر اغوا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس درمیان مہلوک کا ایک ویڈیو بھی سامنے آیا ہے جس میں وہ بھی انہی لوگوں پر خود کو جلانے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ اس اندوہناک واقعہ کے تعلق سے ضلع کے ایس پی نے بتایا کہ 5 لوگوں کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے اور انھیں جلد گرفتار بھی کیا جائے گا۔

next