شادی میں منتروں کی جگہ آئینِ ہند کی تمہید، دلت جوڑے کی منفرد پہل پر عوام نے کی بھرپور تعریف

بھیونڈی کے شیلار گاؤں میں دلت جوڑے نے بدھ مت رسم کے مطابق شادی میں مذہبی منتروں کے بجائے آئینِ ہند کی تمہید پر حلف اٹھایا۔ اس منفرد قدم کو سماجی حلقوں نے بھرپور سراہا

<div class="paragraphs"><p>وشال اور رما کی شادی کا منظر / تصویر محی الدین التمس</p></div>
i
user

محی الدین التمش

ایسے وقت میں جب اپوزیشن جماعتیں آئینِ ہند کو خطرہ لاحق ہونے کا دعویٰ کر رہی ہیں اور جمہوریت کے تحفظ کے لئے آئینی اقدار کی پاسداری کو ضروری قرار دیا جا رہا ہے، عوامی سطح پر اس کی حمایت دکھائی دینے لگی ہے۔ اسی سلسلے میں ممبئی سے تقریباً 50 کلومیٹر دور بھیونڈی تعلقہ کے شیلار گاؤں میں یومِ آئین کے موقع پر ہونے والی ایک شادی سب کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

بدھ مت کے رسم و رواج کے مطابق انجام پانے والی اس شادی میں ایک دلت جوڑے نے ’منگل آشتک‘ کے بجائے دستور ہند کی تمہید کا حلف لے کر زندگی کے اس اہم سفر کا آغاز کیا۔ شادی میں مذہبی منتروں کی جگہ پوری تمہید پڑھ کر سنائی گئی، جبکہ وہاں موجود تمام رشتہ داروں اور مہمانوں نے بھی دستور ہند کی تمہید کو دہرا کر اس کی پاسداری کا عہد کیا اور محبت، اخوت اور بھائی چارے کا پیغام عام کیا۔

سوشل میڈیا پر اس خبر کے پھیلنے کے بعد علاقے میں مثبت اور خوشگوار بحث شروع ہوگئی اور اس قدم کو آئینِ ہند کے تحفظ اور اس کی قدر و منزلت کو عام کرنے کی ایک قابلِ تعریف کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ شیلار گاؤں کے رہائشی ملہاری کامبلے کے فرزند وِشال کامبلے اور ان کی اہلیہ رما نے شادی جیسے اہم موقع پر دستور ہند کی تمہید کا حلف اٹھا کر یہ پیغام دیا کہ دستور صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ زندگی کو باوقار بنانے والا راستہ بھی ہے۔

دولہا وِشال ملہار کامبلے، جو پیشے سے سول انجینئر ہیں اور ایک ایکو فرینڈلی کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں، نے نمائندہ سے گفتگو میں بتایا کہ سماج میں انصاف، آزادی، مساوات اور اخوت کے پیغام کو عام کرنے کے لئے انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شادی بدھ مت رسم کے مطابق ہوئی، لیکن مذہبی منتروں کی جگہ دستور ہند کی حلف برداری کرائی گئی، جس میں تمام شرکاء نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔


وِشال کامبلے نے بتایا کہ شادی میں مختلف ذات برادریوں کے لوگ شریک تھے۔ ابتدا میں وہ حیران ضرور ہوئے لیکن بعد میں سبھی نے تمہید کا حلف لیا اور اس نئی روایت کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اسے قابلِ ستائش قدم بھی قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ تمام شرکاء نے ’’ہم، ہندوستان کے لوگ… انصاف، آزادی، مساوات اور اخوت کو قائم رکھنے کا عہد کرتے ہیں‘‘ کو منتر کی جگہ پڑھا۔

وِشال کے مطابق یومِ آئین کے دن شادی کرنے اور تمہید کو بطور حلف اختیار کرنے کا فیصلہ پہلے سے طے شدہ تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ شادی کی تقریب صرف رسمی نہ ہو بلکہ ایک سماجی پیغام بھی دے۔ مزید کہا کہ معمارِ دستور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے ایسا قانون دیا ہے جو ہر ہندوستانی کو باوقار زندگی کا حق دیتا ہے، اور اس کی پاسداری ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔

قانونی اور سماجی حلقوں میں اس دلت جوڑے کے قدم کی بھرپور تعریف کی جا رہی ہے، جبکہ علاقائی سطح پر سوشل میڈیا پر بھی اس اقدام کو خوب سراہا جا رہا ہے۔