سی اے اے: شاہین باغ کی دادی پہنچیں پھلواری شریف، کہا ’سر کٹا سکتے ہیں، سر جھکا نہیں سکتے‘

سی اے اے، این آر سی و این پی آر کے خلاف پھلواری شریف میں جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ’دبنگ دادی‘ نے کہا کہ دھرنا اسی صورت میں ختم ہوگا جب کالا قانون واپس لینے کا تحریری وعدہ کیا جائے گا۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

شیث احمد

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی و این پی آر کے خلاف پھلواری شریف کے ہارون نگر میں گزشتہ تقریباً ایک مہینہ سے احتجاجی دھرنا جاری ہے جس میں آج شاہین باغ کی ’دبنگ دادی‘ نے شرکت کی۔ دادی اسماء خاتون نے دھرنے میں بیٹھیں خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں سے بھی کہا کہ وہ ایک ایسی لڑائی لڑ رہے ہیں جو ایک دو دن میں ختم ہونے والی نہیں ہے۔ اس لیے وہ اس وقت تک دھرنے سے نہ اٹھیں جب تک کہ کالا قانون واپس نہیں لے لیا جاتا۔

اپنی تقریر کے دوران شاہین باغ کی دادی نے مظاہرین سے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’مودی جی تک ہم نے پیغام پہنچایا ہے کہ دو مہینہ لگے، چھ مہینہ لگے، سال لگے، ہم اٹھنے والے نہیں ہیں۔ جو کالا قانون تم لائے ہو، اس کو واپس لینے کا وعدہ ہم سے تحریری طور پر کرو، تبھی ہم لوگ اٹھیں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’جیسے ہم بیٹھے ہیں، ویسے ہی بیٹھے رہیں گے۔ سر کٹا سکتے ہیں، سر جھکا نہیں سکتے۔ مرنا تو انسان کو ہے ہی، آج مرے یا کل مرے۔ شہادت کی موت ملتی ہے تو ہمیں منظور ہے۔‘‘

این ڈی ٹی وی کے ایک پروگرام سے مشہور ہوئیں دادیوں میں سے ایک اسماء خاتون نے یہاں موجود لوگوں کو اپنی 9 پستوں کا نام بھی شمار کرایا اور کہا کہ پی ایم مودی اگر اپنی پستوں کا نام شمار کرا دیں پھر سی اے اے کی بات کریں۔ اپنے خطاب کے دوران ’دبنگ دادی‘ نے کئی اشعار بھی پڑھے اور دھرنے میں بیٹھی خواتین کے اندر ایک جوش پیدا کر دیا۔ دادی کی باتوں کو سن کر وہاں موجود سبھی لوگ تالیاں بجا رہے تھے۔