گردابی طوفان ’جواد‘ کمزور پڑ گیا، دوپہر تک اوڈیشہ پہنچنے کا امکان

خلیجِ بنگال میں پیدا ہونے والا گردابی طوفان جواد اوڈیشہ پہنچنے سے پہلے ہی کمزور پڑا گیا ہے اور اس کے آج دوپہر تک اوڈیشہ کے ساحل تک پہنچنے کا امکان ہے

سمندری طوفان، تصویر آئی اے این ایس
سمندری طوفان، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: خلیجِ بنگال میں پیدا ہونے والا گردابی طوفان جواد اوڈیشہ پہنچنے سے پہلے ہی کمزور پڑا گیا ہے اور اس کے آج دوپہر تک اوڈیشہ کے ساحل تک پہنچنے کا امکان ہے۔ کا زور کم ہونے کے بعد امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ طوفان زیادہ تباہ کن ثابت نہیں ہوگا، تاہم ساحلی ریاستوں میں خطرہ ہنوز برقرار ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق طوفان کمزور پڑ گیا ہے لیکن اس کے زیر اثر علاقوں میں بھاری بھاری شارش ہو سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہےک ہ مغربی بنگال میں دریائے گنگا سے ملحقہ علاقوں اور شمالی اوڈیشہ میں مختلف مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ پیر کے روز آسام، میگھالیہ اور تریپورہ کے بھی کئی علاقوں میں بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔


محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر مرتیونجے مہاپاترا نے کہا کہ جواد کے کمزور پڑنے سے بہت زیادہ تباہی تو نہیں ہوگی لیکن اس دوران آندھرا اور اوڈیشہ میں بھاری بارش ہو سکتی ہے جس سجے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کا جوبھی اثر ہوگا وہ اوڈیشہ کے گنجم، بھدرک اور بالاسور ضلع میں ہوگا اور یہ نقصان گردابی طوفان کی تباہی کے مقابلہ کافی کم ہوگا۔ شریکاکولم، وجیانگرم اور وشاکھاپتنم میں بھی بارش ہوگی۔

جواد کے پیش نظر اوڈیشہ حکومت نے ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچ دیا ہے۔ این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، کوسٹل گارڈ سمیت مقامی پولیس کے جوانوں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ہفتہ کی صبح 5.30 بجے گردابی طوفان جواد پوری کے ساحل سے 410 کلومیٹر اور وشاکھاپٹنم سے 230 کلومیٹر کے فاصلہ پر مغربی وسطی خلیج بنگال کے اوپر تھا۔ یہاں سے یہ کمزور پڑنا شروع ہوا اور شمال کی جانب بڑھتے ہوئے اگلے 12 گھنٹے میں اس کے کمزور پڑنے کا امکان ہے۔

طوفان کمزور پڑتا ہوا شمال-شمال مشرق کی جانب اوڈیشہ کا رخ کرے گا اور اتوار کی دوپہر کو گہرے دباؤ میں تبدیل ہوتے ہوئے پوری میں دستک دے گا۔ یہاں سے یہ مزید کمزور ہوتا ہوا مغربی بنگال کی جانب چلا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔