قومی

توقع سے زیادہ خطرناک نکلا ’وایو‘، گجرات کے ساحل سے 175 فی کلومیٹر کی رفتار سے ٹکرانے کا خدشہ

طوفان ’وایو‘ کے پیش نظر ساحلی اضلاع پر احتیاط کے وسیع اقدامات کیے گئے ہیں۔11ساحلی اضلاع کے اسکولوں میں آج اور کل چھٹی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

گاندھی نگر: بحیرہ عرب میں اٹھے گردابی طوفان نے اور خطرناک شکل اختیار کرلی ہے اور اس سے پہلے کی پیشن گوئی کے مقابلے میں اور زیادہ شدت سے گجرات کے سوراشٹر کے نزدیک کل صح زمین سے ٹکرانے (لینڈفول) کا امکان ہے۔

احمدآباد محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جینت سرکار نے یو این آئی کو بتایا کہ اب اس نے اور زیادہ خطرناک گردابی طوفان کی شکل لے لی ہے۔ صبح یہ گجرات کے ویراول ساحل سے تقریباً 340 کلومیٹر جنوب میں واقع تھا۔ یہ کل صبح پوربندر سے مہوا کے درمیان ویراول کے آس پاس زمین سے ٹکرائے گا۔اس وقت اس کی رفتار پہلے کے اندازے کے مطابق 110 سے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کے مقابلے میں اور زیادہ 145 سے 155 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے کا امکان ہے اور اس کے ساتھ کبھی کبھی ہوا کی رفتار 175 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جائےگی۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

اس دوران اس کے پیش نظر ساحلی اضلاع پر احتیاط کے وسیع اقدامات کیے گئے ہیں۔11ساحلی اضلاع کے اسکولوں میں آج اور کل چھٹی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلی وجے روپانی نے صرف اسی موضوع پر آج کابینہ کی میٹنگ بلائی ہے۔ سبھی انچارج وزرا کو ان کے اضلاع میں ہرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سبھی سرکاری افسروں کی چھٹیاں رد کردی گئی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں ماہیرگیروں کی کشتیاں واپس لوٹائی گئی ہیں جبکہ گھوگھا اور دہیج کے درمیان کھنبھات کے خلیج میں چلنے والی رو رو فیری کو کل سے تین دن کے لئے بند کردیا گیا ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

تقریباً 408 ساحلی گاؤں کی سمت نچلے علاقوں سے لوگوں کو منتقل کرنے کا کام آج صبح شروع ہوگیا ہے۔ کل تقریباً تین لاکھ لوگوں کو منتقل کیا جائےگا۔ راحت اور بچاؤ کے کام کے لئے تینوں افواج کو بھی تیار رکھا گیا ہے۔ این ڈی آر ایف کی تیس سے زیادہ ٹکڑیاں ان علاقوں میں تعینات ہیں۔ طوفان کے پیش نظر ساحلی علاقوں میں بھاری بارش کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ سمندری ساحلوں پر لوگوں کو نہ جانے کی صلاح دی گئی ہے۔ ادھر ساحلی علاقوں سمیت ریاست کے کئی مقامات پر آج بادل چھائے رہیں گے اور کئی مقامات پر بوندا باندی بھی ہوئی ہے۔ سمندر ی ساحل پر اونچی لہریں اٹھ رہی ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے دو بار ایسے طوفانوں کی وارننگ آخر میں غلط ثابت ہوئی تھی۔ سال 2014 کے اکتوبر میں نیلوفر طوفان اور 2017 کے دسمبر میں اوکھی طوفان گجرات ساحل سے ٹکراتے وقت محض کم دباؤ کے معمولی علاقے میں تبدیل ہوگئے تھے۔ اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا تھا جبکہ اس سے پہلے ان سے نمٹنے کے لئے وسیع تیاریاں کی گئی تھیں اور تینوں افواج کو بھی تیار رکھا گیا تھا۔