جنم اشٹمی پر دیوریا میں نوجوان کا پیٹ پیٹ کر قتل، کرفیو نافذ

اتر پردیش کے دیوریا میں جنم اشٹمی کی تقریت پر زیادہ آواز میں میوزک چلانے پر اعتراض کرنے والے نوجوان سمت کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا، جس کے بعد دیوریا میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے دیوریا ضلع میں اس وقت کرفیو نافذ کر دیا گیا جب وہاں پر جنم اشٹمی منا رہے لوگوں نے ایک نوجوان کو اس لئے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا کیونکہ اس کے والد نے میوزک کی آواز کو کم کرنے کے لئے کہا تھا۔ دیوریا میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جو 15ستمبر تک لاگو رہے گی۔ واضح رہے دفعہ 144کے لاگو ہونے کے بعد کہیں بھی چار سے زیادہ لوگ جمع نہیں ہو سکتے۔

دیوریا میں حالات مزید بگڑنے کے بعد کرفیو نافذ کیا گیا اور ضلع میجسٹریٹ امت کشور نے بتایا کہ تناؤ کی وجہ سے کچھ پابندیاں عائد کی گئی ہیں جو 15ستمبر تک لاگو رہیں گی۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ہفتہ کی رات کو برہاج علاقہ کی پٹیل نگر کالونی میں پیش آیا۔ دیوریا کے ایس پی شریپت مشرا نے بتایا ’’جنم اشٹمی کے موقع پر کچھ نوجوان پٹیل نگر کالونی میں زیادہ آواز میں میوزک بجا رہے تھے جس پر مقامی منو لال نے اعتراض جتایا اور اس کو بند کرنے کے لئے کہا۔ جس کی وجہ سے ان نوجوانوں کو غصہ آ گیا۔ انہوں نے لاٹھی- ڈنڈوں سے منو لال کی پٹائی کرنی شروع کر دی۔ جب منو لال کے بیٹے سچن اور سمت اپنی والدہ سنجو دیوی کے ہمراہ ان کو بچانے گئے تو ان کی بھی ان نوجوانوں نے پٹائی کر دی۔ اس حملہ میں زخمی ہوئے 25 سالہ سمت کی اسپتال میں علاج کے دوران موت ہو گئی۔

پولس کو اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچی اور زخمیوں کو علاج کے لئے قریب کے اسپتال لے گئی جہاں سے منولال اور سمت کو علاج کے لئے ضلع اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ علاقہ میں تناؤ ہے جس کی وجہ سے پولس کے اضافی دستے تعینات کر دیئے گئے ہیں، ملزمان ابھی بھی پولس کی گرفتاری سے دور ہیں۔

Published: 26 Aug 2019, 11:10 AM