شیوسینا میں ہنگامہ، 26 کارپوریٹرس اور 300 کارکنان مستعفی

اسمبلی انتخابات سے پہلے شیوسینا کو ایک بڑا جھٹکا لگا ہے۔ ٹکٹ تقسیم کو لے کر شیوسینا کے 26 کارپوریٹرس نے ادھو ٹھاکرے کو استعفی سونپ دیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مہاراشٹر میں انتخابی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں اور جس وقت یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ مہاراشٹر میں شیوسینا کا وزیر اعلی بھی ہو سکتا ہے اس وقت شیو سینا کو ایک بڑا جھٹکا لگا ہے۔ شیو سینا کے 26 کارپوریٹرس اور 300 کارکنان نے پارٹی سے استعفی دے دیا ہے۔ یہ لوگ ٹکٹ تقسیم کو لے کر پارٹی کی قیادت سے ناراض ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے اپنا استعفی پارٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے کو سونپ دیا ہے۔

واضح رہے کانگریس اور این سی پی چھوڑ کر شیوسینا میں شامل ہونے والے کئی رہنماؤں کی وجہ سے پارٹی کے اپنے کئی رہنماؤں کے ٹکٹ کٹ گئے ہیں جن میں شیوسینا کے موجودہ ارکان اسمبلی بھی ہیں۔ ٹکٹ کٹنے کی وجہ سے کئی ارکان اسمبلی اور ان کے حامی ناراض ہیں۔ ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ سالوں سے وہ پارٹی کی خدمت کر رہے ہیں اور اب کچھ دن پہلے جو رہنما پارٹی میں آئے ہیں ان کو ٹکٹ دیا جا رہا ہے، یہ ان کے ساتھ نا انصافی ہے۔

اس سے قبل 3 اکتوبر کو ٹکٹ تقسیم کو لے کر ناراض ارکان اسمبلی نے ادھو ٹھاکرے کی رہاش گاہ ’ماتوشری‘ پر دھرنا بھی دیا تھا۔ ناراض رکن اسمبلی اشوک پاٹل کے حامیوں نے کہا تھا کہ ’’ہمیں یقین نہیں ہو رہا کہ انہیں (اشوک پاٹل) ٹکٹ نہیں دیا گیا ہے۔ وہ پارٹی کے لئے ہر وقت حاضر رہے ہیں۔ ہم انصاف مانگ رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ادھو جی اور آدتیہ جی ہمارے ساتھ انصاف کریں گے۔‘‘

واضح رہے کہ مہارشٹر اسمبلی کی 288 سیٹوں کے لئے 21 اکتوبر کو چناؤ ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی تین دن بعد 24 اکتوبر کو ہوگی۔ ان انتخابات میں 150 سیٹوں پر بی جے پی چناؤ لڑ رہی ہے اور شیو سینا 124 سیٹوں پر ہی چناؤ لڑ رہی ہے۔ اس مرتبہ بال ٹھاکرے کے پوتے آدتیہ ٹھاکرے ممبئی کے ورلی اسمبلی حلقہ سے چناؤ لڑ رہے ہیں اور یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بال ٹھاکرے کے خاندان کا کوئی فرد انتخابی میدان میں ہے۔ واضح رہے سال 2014 میں دونوں پارٹیوں میں اتحاد نہیں ہوا تھا اور دونوں الگ الگ انتخابات لڑی تھیں۔

Published: 10 Oct 2019, 11:05 AM