ہائی کورٹ کی اجازت کے بغیر ایم پی، ایم ایل اے کے خلاف درج فوجداری مقدمات واپس نہیں ہوں گے، سپریم کورٹ

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومتیں متعلقہ ہائی کورٹ کی اجازت کے بغیر مقدمات واپس نہیں لے سکتی ہیں۔

سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کی اجازت کے بغیر ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے خلاف چل رہے فوجداری مقدمات واپس نہیں لئے جائیں گے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومتیں متعلقہ ہائی کورٹ کی اجازت کے بغیر مقدمات واپس نہیں لے سکتی ہیں۔

ہائی کورٹ حال ہی میں کیرالہ کے معاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی بنیاد پر فیصلہ دیں گے۔ عدالت نے مزید کہا کہ تمام ہائی کورٹوں کے رجسٹرار جنرل اپنے چیف جسٹس کو ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے خلاف زیر سماعت تصفیہ کی اطلاع فراہم کریں گے۔ سی بی آئی عدالت اور دیگر عدالتیں ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے خلاف فوجداری مقدمات کے تصفیہ کی نگرانی کے لئے سپریم کورٹ اسپیشل بنچ تشکیل دے گی۔


سپریم کورٹ نے ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے خلاف زیر غور معاملوں پر اسٹیٹس رپورٹ داخل نہ کرنے پر مرکزی حکومت سے ناراضگی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس این وی رمنا نے کہا کہ ہم نے شروع سے ہی مرکز سے عرض کیا تھا کہ وہ ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے تعلق سے زیر سماعت معاملوں پر سنجیدہ ہوں، لیکن مرکزی حکومت کی طرف سے کچھ نہیں کیا گیا۔ ای ڈی کی اسٹیٹس رپورٹ اخبار میں چھپنے پر ناراضگی ظاہر کی۔ سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کے لئے آخری موقع فراہم کیا ہے۔ عدالت نے دو ہفتوں کے اندر رپورٹ داخل کرنے کو کہا ہے۔

سی بی آئی کی جانب سے ایس جی تشار مہتا نے کہا کہ سی بی آئی نے ابھی تک اس معاملے میں اسٹیٹس رپورٹ داخل نہیں کی ہے۔ رپورٹ درج کرنے میں کچھ وقت درکار ہے۔ ایس جی تشار مہتا نے فارمیٹ کے مطابق اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کے لیے عدالت سے وقت طلب کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک خصوصی بنچ تشکیل دینا ہوگا جو ان معاملات کی نگرانی کرے گی۔ تشار مہتا نے کہا کہ وہ یقین دلاتے ہیں کہ مرکزی حکومت اس کے لیے پرعزم ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔