بھیم آرمی کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن، کئی عہدیداران پر ’گینگسٹر قانون‘ کے تحت کارروائی

بھیم آرمی کے مغربی یوپی انچارج نے کہا کہ کسی بھی قسم کی کارروائی بھیم آرمی کارکنوں کے حوصلے نہیں توڑ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانا بھی آج جرم کے زمرے میں آگیا ہے

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد
user

آس محمد کیف

سہارنپور: دلت طبقہ میں کچھ ہی عرصہ کے دوران مقبولیت حاصل کر لینے والی تنظیم ’بھیم آرمی‘ کے خلاف مقامی انتظامیہ کی جانب سے زبردست ’کریک ڈاؤن‘ کرتے ہوئے کئی عہدیداران پر ’گینگسٹر قانون‘ کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ بھیم آرمی کے کنوینر چندرشیکھر حال ہی میں ’تہاڑ جیل‘ سے باہر آنے میں کابیاب ہوئے ہیں جبکہ ’آرمی‘ کے عہدیداران اور کارکنان پر سخت کارروائی کر کے انہیں جیل کا راستہ دکھایا جا رہا ہے۔

پولس نے بھیم آرمی کے قومی جنرل سکریٹری کمل والیا اور قومی ترجمان منجیت نوٹیال کے خلاف گینگسٹر قانون کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ان دونوں عہدیداروں کے علاوہ دیگر دو کارکنان کو بھی اس مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ اس معاملے کی بنیاد دو سال قبل ہوئے سہارنپور تشدد پر مبنی ہے۔ سہارنپور کے شبیر پور گاؤں میں دو سال قبل دلت بستی پر حملہ ہوا تھا جس میں درجنوں مکانات خاکستر ہو گئے تھے، جبکہ خواتین اور بچوں سمیت ڈیڑھ درجن سے زیادہ دلت افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس حملہ کا الزام ٹھاکر برادری پر عائد کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے چار دن بعد بھیم آرمی نے حملہ آوروں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے پرتشدد احتجاج کیا۔


بتایا جا رہا ہے کہ بھیم آرمی کے دو سال قبل کئے گئے پُر تشدد احتجاج کی بنیاد پر ہی پولس اب گینگسٹر کی کارروائی کر رہی ہے۔ اس کارروائی کو عمل میں لانے کے بعد پولس نے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ بھیم آرمی کے قومی جنرل سکریٹری کمل سنگھ والیا اور ترجمان منجیت نوٹیال پہلے ہی جیل میں ہی بند ہیں۔ پولس کی کارروائی کے بعد بھیم آرمی میں افرا تفری کا ماحول ہے اور عہدیداران اور ارکان روپوش ہوگئے ہیں۔

ادھر، سی او (سرکل آفیسر) مکیش مشرا کے مطابق کمل سنگھ والیا ایک جھڑپ کے معاملہ میں جیل میں بند ہیں جبکہ منجیت سنگھ نوٹیال نے وزیر اعظم پر قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا، جس کے لئے انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ اب جنک پوری پولس اسٹیشن کی جانب سے ان دونوں پر گینگسٹر قانون کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔


دریں اثنا، بھیم آرمی کے جنرل سکریٹری کمل والیا کا جیل سے لکھا گیا ایک خط وائرل ہو رہا ہے۔ اس خط میں بھیم آرمی کے کمل والیا نے یہ لکھ کر ایک سنسنی پیدا کردی ہے کہ وہ کل بھی باغی تھے اور آج بھی باغی ہیں۔ خط پر کمل سنگھ والیا اور منجیت نوٹیال کے نام درج ہیں لیکن جیلر وریش شرما جیل سے خط لکھے جانے کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’شاید یہ خط انہوں نے جیل میں بند ہونے سے پہلے لکھا ہوگا۔‘

بھیم آرمی کے مغربی یوپی انچارج دیویندر سنگھ کے مطابق ’کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی بھیم آرمی کارکنوں کے حوصلے نہیں توڑ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانا بھی آج جرم کے زمرے میں آگیا ہے۔‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔