بہار این ڈی اے کی تلخی ایک بار پھر ظاہر، بی جے پی لیڈر کے بیان سے نتیش بریگیڈ پریشان!

ایک طرف تو بی جے پی نے اعلان کر رکھا ہے کہ بہار الیکشن نتیش کمار کی قیادت میں لڑا جائے گا اور دوسری طرف پارٹی لیڈر سنجے پاسوان کا کہنا ہے کہ ریاست کے لوگ بی جے پی کا وزیر اعلیٰ دیکھنا چاہتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بہار اسمبلی انتخاب بہت زیادہ دور نہیں ہے، اور ایسے میں بی جے پی و جنتا دل یو لیڈروں کے ذریعہ ایک دوسرے کے خلاف بیان دیئے جانے سے اس اتحاد کو خطرہ محسوس ہونے لگا ہے۔ بی جے پی رکن اسمبلی سنجے پاسوان نے بھی ایک ایسا بیان دے دیا ہے جس سے نتیش بریگیڈ میں ناراضگی پیدا ہونا لازمی ہے۔ بدھ کے روز سنجے پاسوان نے واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ بہار کے لوگ کسی بی جے پی لیڈر کو ریاست کا وزیر اعلیٰ بنانا چاہتے ہیں۔ گویا کہ انھوں نے نتیش کمار کے وزیر اعلیٰ چہرہ ہونے پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

دراصل جنتا دل یو کے سربراہ اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کسی بھی حال میں اپنی کرسی گنوانا نہیں چاہتے اور اپنے ہی چہرہ کو سامنے رکھ کر اسمبلی انتخاب میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ لیکن بی جے پی کے کئی وزراء اور لیڈران کئی بار اشاروں اشاروں میں اور وقتاً فوقتاً واضح لفظوں میں بھی نتیش کمار اور جنتا دل یو کے خلاف بیان دیتے رہے ہیں جس سے بہار این ڈی اے میں تلخیا ں ظاہر ہوتی رہی ہیں۔ بی جے پی لیڈر سنجے پاسوان کے تازہ بیان سے یہ تلخیاں ایک بار پھر سب کے سامنے آ گئی ہیں۔ سنجے پاسوان نے تو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ’’ہم (بی جے پی) تنہا انتخاب جیتنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔‘‘

سنجے پاسوان کا بیان اس لیے بھی این ڈی اے کے لیے مشکلیں کھڑی کرنے والا ہے کیونکہ بی جے پی نے پہلے ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ بہار اسمبلی انتخاب نتیش کمار کی قیادت میں ہی لڑا جائے گا۔ چونکہ گزشتہ کچھ دنوں سے بی جے پی اور جنتا دل یو کے درمیان سب کچھ بہت اچھا معلوم نہیں ہو رہا ہے اس لیے سنجے پاسوان کے بیان کو کچھ لوگ نظر انداز کرنا بے وقوفی سمجھ رہے ہیں۔ بی جے پی لیڈر نے حالانکہ کہا ہے کہ وہ پی ایم مودی اور سشیل مودی جی کے فیصلے پر عمل کریں گے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ بی جے پی ریاست میں سب سے مضبوط اور سرگرم پارٹی ہے، ساتھ ہی تنہا انتخاب جیتنے کی قابلیت رکھتی ہے۔