یوسف تاریگامی کی نظر بندی ختم، سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد دہلی ایمس میں داخل

سابق رکن اسمبلی تاریگامی کی طبیعت ناساز تھی اور ان کے بہتر علاج کے لیے سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر انتظامیہ کو ہدایت دی تھی کہ انھیں راجدھانی کے ایمس اسپتال میں داخل کیا جائے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم )کے سنیئر لیڈر یوسف تاریگامی کو بیماری کی حالت میں پیر کو دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(ایمس)لایاگیاہے ۔جموں کشمیر میں پانچ اگست سے دفعہ 370اور 35اے ختم کیے جانے کے بعد سے وہ سری نگر میں نظربندتھے ۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد ان کی نظر بندی ختم ہوئی ہے اور انھیں بغرض علاج ایمس میں داخل کیا گیا ہے۔

سابق رکن اسمبلی تاریگامی کی طبیعت ناساز تھی اور ان کے بہتر علاج کے لیے سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر انتظامیہ کو ہدایت دی تھی کہ انھیں راجدھانی کے ایمس اسپتال میں داخل کیا جائے۔ سرکاری ذرائع نے اس سلسلے میں خبر رساں ایجنسی یواین آئی کوبتایاکہ سی پی ایم کے لیڈر کے ساتھ ایک ڈاکٹر ،ایک رشتہ دار اور ایک پولس افسر بھی ہے ۔

قابل ذکر ہے کہ سی پی ایم کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدالت عظمی نے ریاستی انتظامیہ سےیوسف تاریگامی کو طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ سپریم کورٹ نے پانچ ستمبر کو کہا تھا کہ تاریگامی کو سری نگر سے نئی دہلی کے ایمس میں جلد سے جلد داخل کرایاجائے ۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ سری نگر واقع ایس کے میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کی صلاح کوذہن میں رکھتے ہوئے تاریگامی کو ایمس بھیجا جائے۔ بنچ نے تاریگامی کی خواہش کے مطابق خاندان کے ایک فرد کو ان کے ساتھ رہنے کی اجازت دی ہے۔