’دہلی تشدد‘ کے لیے امت شاہ کی وزارت ذمہ دار، ہندو فریق نے اختیار کیا تھا جارحانہ رخ: فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ

دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کو لے کر سی پی آئی (ایم) نے وزیر داخلہ امت شاہ پر بڑا الزام عائد کیا ہے۔ سی پی آئی ایم کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں وزارت داخلہ کو تشدد کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

روی پرکاش

دہلی میں سی اے اے-این آر سی قوانین کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران ہوئے تشدد کو لے کر سی پی آئی ایم نے ایک ایسی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کی ہے جس نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ فروری 2020 میں ہوئے تشدد کو لے کر جاری فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس میں وزیر داخلہ امت شاہ تشدد بھڑکنے اور جانچ میں تفریق کرنے کے لیے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امت شاہ کے ماتحت آنے والی وزارت داخلہ کئی معنوں میں تشدد بھڑکنے کے پیچھے ذمہ دار تھی۔ سی پی آئی ایم نے اپنی اس رپورٹ کو ’شمال مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد، فروری 2020‘ نام سے جاری کیا ہے۔

سی پی آئی ایم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کو ’دہلی فساد‘ کہنا غلط ہے۔ رپورٹ کے مطابق فساد وہ ہوتے ہیں جہاں دونوں فریق برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہاں جارحیت ہندو فریق کی بھیڑ کی طرف سے تھا۔ دوسرے فریق نے خود کو ایسے حملوں سے بچانے کی کوشش کی۔ تقریباً سبھی علاقوں میں ایسے ویڈیو ثبوت موجود ہیں جہاں پولس کو ہندوتوا بھیڑ کا تعاون کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔


غور طلب ہے کہ سی اے اے-این آر سی کے خلاف طویل احتجاجی مظاہرہ راجدھانی دہلی میں ہوا تھا۔ فروری ماہ میں فرقہ وارانہ تشدد کے کچھ واقعات ہوئے جس میں بڑی تعداد میں مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرا کر جیل میں بند کیا گیا، حالانکہ کئی ایسی رپورٹس شائع ہوئیں جو انھیں بے قصور ثابت کر رہی تھیں۔ ’جن ستّا‘ میں شائع ایک خبر کے مطابق بایاں محاذ پارٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 11 مارچ 2020 کو امت شاہ نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ وہ دہلی کے اہم پولس افسران سے رابطے میں ہیں اور حالات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ 24 فروری کو جب تشدد بھڑکا، تب کرفیو کیوں نہیں لگایا گیا؟ آخر کیوں فوج نہیں تعینات کی گئی؟ یہاں تک کہ دہلی پولس اور ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے جوانوں کی تعداد بھی بے حد کم اور تعیناتی کافی دیر سے کی گئی تھی۔ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 23 فروری سے 27 فروری کے درمیان 26 لاکھ آبادی والے ایک ضلع میں صرف 1393 سے 4756 جوان ہی تعینات رہے تھے۔

سی پی آئی ایم نے اپنی رپورٹ میں آگے کہا ہے کہ اس سے قبل کہ واقعہ کی کوئی جانچ ہوتی، وزیر داخلہ نے 11 مارچ کو لوک سبھا میں اس کی تفصیل پیش کر دی۔ اس کے بعد ہوئی جانچ صرف ان کا نظریہ درست ٹھہرانے کے لیے ہوئی۔ رپورٹ میں وزیر داخلہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے بی جے پی لیڈروں کے ان بیانات کو بھی نظر انداز کیا جس میں ملک کے غداروں کو گولی مارنے کی بات کہی گئی تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ امت شاہ نے نفرت بھری تقریروں کے لیے الٹے اپوزیشن پر ہی الزام عائد کر دیا اور کہا کہ 14 دسمبر 2019 کو کانگریس نے ہی اقلیتی طبقہ کے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ ’کرو یا مرو‘ کی لڑائی کے لیے سڑکوں پر آ جائیں۔ اس طرح سے شاہ نے تشدد کے لیے صرف اپوزیشن کو ذمہ دار ٹھہرا دیا، ساتھ ہی انھوں نے اقلیتی طبقہ کو بھی اس میں لپیٹ لیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔