وارانسی پوسٹر معاملہ: سی پی ایم نے پی ایم مودی کو بنایا تنقید کا نشانہ، ووٹرس سے ملک مخالف طاقتوں کو شکست دینے کی اپیل

گزشتہ ہفتہ وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے مبینہ اراکین نے وارانسی کے گھاٹوں پر غیر ہندوؤں کا داخلہ ممنوع ہونے سے متعلق پوسٹر چپکا دیئے تھے، اس کی تصویریں اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی ڈالی گئی تھیں۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے وارانسی میں گنگا کے مختلف گھاٹوں پر پوسٹر چسپاں کر غیر ہندوؤں کو گھاٹوں سے دور رہنے کی تنبیہ کرنے کے معاملے میں سی پی ایم نے پی ایم مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر ملک مخالف طاقتوں کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ سی پی ایم نے کہا کہ یہ پوسٹر ملک مخالف ہیں۔ ہندوستان کو ان طاقتوں کو شکست دینا ہوگا۔

سی پی ایم کے سینئر لیڈر سیتارام یچوری نے کہا کہ ’دھرم سنسد‘ میں نسل کشی کی اپیل کی جاتی ہے، مسلم خواتین کو ایپس کے ذریعہ نشانہ بنایا جاتا ہے، اور اب یہ پوسٹر۔ پی ایم مودی نے ہندوستان کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ہندوستان جو ایسا انڈیا بن گیا ہے، اسے ان ملک مخالف طاقتوں کو ہرانا ہوگا۔


دراصل حال میں وارانسی میں گنگا کے مختلف گھاٹوں پر مبینہ طور پر پوسٹر چپکا کر غیر ہندوؤں کو گھاٹوں سے دور رہنے کی تنبیہ دینے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ گزشتہ ہفتہ وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بجرنگ دل کے مبینہ اراکین نے گھاٹوں پر غیر ہندوؤں کا داخلہ ممنوع ہے، لکھے پوسٹر چپکا دیئے تھے۔ ان پوسٹر کو لگاتے ہوئے ان کی تصویریں اور ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر ڈالے گئے تھے۔

فی الحال معاملے میں پولیس نے پانچ لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ ان پانچ لوگوں میں سے دو وی ایچ پی اور بجرنگ دل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ویڈیو میں وہ یہ اعتراف کرتے بھی دیکھے گئے تھے۔ پولیس نے دونوں کی شناخت راجن گپتا اور نکھل ترپاٹی رودر کی شکل میں کی ہے۔ حالانکہ فی الحال دونوں کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے، جس کے سبب بی جے پی حکومت کی منشا پر سوال اٹھ رہے ہیں۔


وی ایچ پی کی وارانسی وِنگ کے سکریٹری راجن گپتا نے ایک ویڈیو میں کہا کہ یہ پوسٹر اپیل نہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو سناتن مذہب پر عمل نہیں کرتے ہیں۔ کاشی کے گھاٹوں اور مندروں کو ہندو مذہب اور ثقافت کی علامت بتاتے ہوئے گپتا نے کہا تھا دیگر مذہب کے لوگوں کو گھاٹوں سے دور رہنا چاہیے۔ اگر یہاں آنے والے لوگوں کی ہندو مذہب میں عقیدت ہے تو ان کا استقبال ہے، اور اگر عقیدت نہیں ہے تو ہم انھیں یہاں سے بھگا دیں گے۔

وہیں بجرنگ دل کے وارانسی کنوینر نکھل ترپاٹھی رودر نے کہا تھا کہ گنگا ہماری ماں ہے، یہ پکنک اسپاٹ نہیں ہے۔ جو گنگا کو پکنک اسپاٹ مانتے ہیں، انھیں اس سے دور رہنا چاہیے۔ اگر وہ خود دور نہیں رہتے تو بجرنگ دل ایسا کرے گا۔ حالانکہ وی ایچ پی نے اتوار کو کہا کہ دونوں اراکین کو تنظیم سے باہر کر دیا گیا ہے۔


غور طلب ہے کہ وارانسی وزیر اعظم نریندر مودی کا پارلیمانی حلقہ ہے اور یہاں کے گھاٹوں پر ایسے پوسٹر لگانے کا واقعہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے ٹھیک پہلے پیش آیا ہے۔ اتر پردیش میں 10 فروری سے لے کر 7 مارچ تک سات مراحل میں ووٹنگ ہوگی اور نتیجے 10 مارچ کو آئیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔