نظام الدین مرکز ہمیشہ کے لئے تو بند نہیں کیا جا سکتا، عدالت

عدالت نے حکومت کے وکیل سے پوچھا کہ وہ بتائیں کہ انہوں نے کس سے جایئداد لی اور وہ کب تک اسے کیس جایئداد کے طور پر بند رکھیں گے۔

فائل تصویر یو این آئی
فائل تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ سال جو تبلیغی جماعت کے مرکز میں ہوئے اجتماع میں کووڈ -19 کے ضابطوں کی مبینہ خلاف ورزی کے تعلق سے کیس درج ہے وہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے ۔ مرکزی حکومت نے یہ بات اس کیس کی سنوائی کے دوران کہی جس میں وقف بورڈ نے تبلیغی جماعت کے مرز کو کھولے جانے کے لئے عرضی لگائی ہے۔ واضح رہے تبلیغی جماعت کا مرکز گزشتہ سال 31 مارچ سے بند ہے۔

عدالت نے مرکز ی حکومت سے کہا ہے کہ تبلیغی جماعت کے مرکز کو ہمیشہ کے لئے تو بند نہیں کیا جا سکتا۔ مرکزی حکومت کے وکیل نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے مرکز کو کھولے جانے کی قانونی کارروائی جائداد کو لیز پر دینے والے کا اختیار ہے اور اس سلسلہ میں قانونی کارروائی ہو رہی ہے۔وکیل نے کہا کہ وقف بورڈ کے پاس اس تعلق سے کوئی حق نہیں ہے ۔ نیوز 18 پر شائع خبر کے مطابق جج نے کہا ’’کچھ لوگوں کے پاس یہ جائداد تھی ، کورونا وبا کی وجہ سے ایف آئی آر ہوئی اور حکومت نے کیس جائداد کے طور پر جائداد کو اپنے قبضہ میں لے لیا اب یہ نہیں ہے کہ جائداد ہمیشہ کے لئے رکھی جا سکتی ہے ۔ آپ بتائیں کہ آپ نے کس سے جایئداد لی اور کب تک اسے کیس جایئداد کے طور پر بند رکھیں گے۔‘‘


اس معاملہ کی سنوائی اب 16 نومبر کو ہوگی اور عدالت نے اس تعلق سے جواب مانگا ہے ۔ وقف بورڈد کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل رمیش گپتا نے کہا کہ مرکزی حکومت اس جایئداد کو بورڈ کو واپس کرے اور حکومت کا اس معاملہ میں کوئی کردار نہیں ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔