عدالت نے اپوزیشن کو دبانے کے لیے بنائے گئے جھوٹے اور من گھڑت مقدمے کو مسترد کر دیا: پون کھیڑا
کانگریس کے مطابق گزشتہ 12 برسوں سے اپوزیشن کو دبانے کے لیے ایک جھوٹا اور من گھڑت مقدمہ چلایا جا رہا تھا، جسے اب عدالت نے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے فیصلے کو جمہوریت اور آئین کے حق میں راحت قرار دیا

کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیڑا نے نیشنل ہیرالڈ معاملے میں عدالت کے حالیہ فیصلے کو ایک بڑی سیاسی اور اخلاقی فتح قرار دیا۔ نئی دہلی میں کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں سے ایک جھوٹا اور من گھڑت مقدمہ بنا کر اپوزیشن کو دبانے کی کوشش کی جا رہی تھی، جسے اب عدالت نے مسترد کر دیا ہے۔
پون کھیڑا نے الزام لگایا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، سی بی آئی، انکم ٹیکس اور دیگر مرکزی اداروں کو ایک ’پرائیویٹ فوج‘ کی طرح استعمال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جان بوجھ کر حکومت یا کسی عہدے کا نام نہیں لیں گے بلکہ اس پورے عمل کو ’گینگس آف گاندھی نگر‘ کی سازش قرار دیتے ہیں، جس نے ریاستی اداروں کا غلط استعمال کیا۔
انہوں نے کہا کہ راؤس ایونیو عدالت کے فیصلے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ای ڈی کی جانب سے نیشنل ہیرالڈ معاملے میں دائر کیا گیا کیس قانونی بنیاد سے محروم تھا۔ عدالت نے اس کیس کا نوٹس لینے سے انکار کر کے اس پوری کارروائی کو بے نقاب کر دیا ہے، جسے برسوں سے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
پون کھیڑا کے مطابق یہ معاملہ صرف سونیا گاندھی اور راہل گاندھی تک محدود نہیں تھا بلکہ اصل نشانہ ملک کا آئین، جمہوریت اور عوام کے بنیادی حقوق تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی راہل گاندھی ووٹ چوری، بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں، خواتین، دلتوں، آدیواسیوں اور اقلیتوں کے مسائل اٹھاتے ہیں تو ان کی آواز دبانے کے لیے ایسے مقدمات گھڑے جاتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیشنل ہیرالڈ کو جان بوجھ کر سرخیوں میں رکھا گیا تاکہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اخبار آزادی کی جدوجہد کی علامت ہے، جس پر کبھی برطانوی حکومت نے پابندی عائد کی تھی اور آج اسی روایت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پون کھیڑا نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ سچ کو دبانے کی کوششیں وقتی ہو سکتی ہیں مگر وہ ہمیشہ کے لیے کامیاب نہیں ہوتیں۔
پریس کانفرنس کے دوران کانگریس کے قانونی ماہر محمد خان نے معاملے کے قانونی پہلوؤں پر مختصر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت نے واضح طور پر کہا ہے کہ ای ڈی کے پاس اس کیس میں نہ تو دائرہ اختیار تھا اور نہ ہی قانونی اہلیت۔ محمد خان کے مطابق نیشنل ہیرالڈ سے وابستہ ادارہ ایک نان پرافٹ کمپنی ہے، جہاں کسی بھی فرد کو مالی فائدہ پہنچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسی لیے پی ایم ایل اے کے تحت کیس بنانا قانونی طور پر ناقابلِ جواز تھا۔
محمد خان نے کہا کہ جب چارج شیٹ ہی موجود نہیں اور ابتدائی قانونی شرائط پوری نہیں ہوتیں تو کیس کو آگے بڑھانے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ کانگریس نے عندیہ دیا کہ عدالت کے تفصیلی حکم کا مطالعہ کرنے کے بعد کیس کے مکمل خاتمے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔