کرناٹک: کیا فلور ٹیسٹ میں بی جے پی میں بغاوت ہو سکتی ہے؟

کرناٹک اسمبلی اسپیکر کے ذریعہ کل 17 باغی ارکان اسمبلی کو نا اہل قرار دینے کے بعد بی جے پی کے یدی یورپا کو آج ایوان میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہوگا۔

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

کرناٹک کے نئے وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا کو آج اسمبلی میں اپنی حکومت کی اکثریت ثابت کرنی ہوگی۔آج سب کی نگاہیں کرناٹک کے فلور ٹیسٹ پر لگی ہوئی ہیں کیونکہ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی میں بغاوت ہو گی اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پورا فلوڑ ٹیسٹ دلچسپ ہو جائے گا۔

کرناٹک اسمبلی اسپیکر کے آر رمیش کمار نے کل کانگریس اور جنتا دل (ایس) کے 14 باغی ممبران اسمبلی کو اینٹی ڈفیکشن قانون کے تحت نااہل قرار دے دیا تھا، اس سے قبل وہ تین ارکان اسمبلی کے ساتھ بھی یہی کر چکے ہیں یعنی کل 17 ارکان کو وہ نا اہل قرار دے چکے ہیں اب نااہل قرار دیئے گئے ارکان موجودہ اسمبلی کی مدت کار کے دوران انتخاب بھی نہیں لڑ پائیں گے۔ رمیش کمار نے جنتا دل (ایس) کے تین ممبران اسمبلی سمیت 14 باغی ممبران اسمبلی کو فوری طور پر نااہل قرار دیا۔

واضح رہے ان ممبران اسمبلی کو نااہل قرار دیئے جانے کے بعد 225 رکنی اسمبلی میں کل 208 نشستیں رہ گئی ہیں۔ ریاست میں 14 ماہ پرانی کانگریس-جنتا ادل (ایس) مخلوط حکومت گرنے کے بعد حکومت بنانے والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے 105 رکن اسمبلی ہیں اور پارٹی کو ایک آزاد ممبر اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ ادھر اسپیکر سمیت کانگریس اور جے ڈی ایس کو ملا کر کل 100 ارکان اسمبلی ہیں۔

دوسری جانب کانگریس کے رہنما اور سابق وزیر اعلی سدا رمیا کا دعوی ہے کہ آج بی جے پی کے تین ارکان اسمبلی بی جے پی کے خلاف ووٹ دیں گے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر یدی یورپا کی پریشانی بڑھ سکتی ہے اور معاملہ دلچسپ ہو سکتا ہے یعنی پکچر ابھی باقی ہے۔ ایسی صورت میں بی ایس پی کے رکن اسمبلی اور آزاد رکن اسمبلی کے ووٹ کی اہمیت بڑھ جائے گی اور ان کا رخ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔