گوا حکومت میں ہر قدم پر بدعنوانی، میں نے آواز اٹھائی تو مجھے ہٹا دیا گیا! ستیہ پال ملک

میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے گوا کی بی جے پی حکومت پر بدعنوانی کے الزامات عائد کئے ہیں۔ گوا کے سابق گورنر نے کہا کہ ریاست میں بدعنوانی ہے اور وزیر اعظم کو اس پر توجہ دینی چاہئے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک کا کہنا ہے کہ گوا میں بدعنوانی کا دور دورہ ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔ گوا کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے ان خیالات کا اظہار ٹی وی ٹوڈے کے کنسلٹنگ ایڈیٹر راجدیپ سردیسائی سے ایک انٹرویو کے دوران کیا۔

ستیہ پال ملک نے کہا، ’’گوا میں بی جے پی حکومت کووڈ سے ٹھیک طریقے سے نمٹ نہیں سکی اور میں اپنے اس بیان پر قائم ہوں۔ گوا حکومت نے جو کچھ کیا اس میں بدعنوانی تھی۔ مجھے گوا حکومت کے خلاف لگائے گئے بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے برطرف کیا گیا تھا۔ میں لوہیا کے اصولوں پر عمل کرتا ہوں، میں نے چرن سنگھ کے ساتھ وقت گزارا ہے۔ میں بدعنوانی برداشت نہیں کر سکتا۔‘‘


انہوں نے کہا، "گوا حکومت کی طرف سے گھر گھر راشن تقسیم کرنے کی اسکیم ناقابل عمل تھی۔ یہ ایک کمپنی کے کہنے پر کیا گیا، جس نے حکومت کو رقم دی تھی۔ مجھ سے کانگریس سمیت کئی لوگوں نے تحقیقات کرنے کو کہا۔ میں نے معاملے کی چھان بین کی اور وزیراعظم کو اس سے آگاہ کیا۔‘‘

ملک نے کہا، ’‘وہ نہیں مانیں گے کہ یہ ان کی غلطی تھی۔ ہوائی اڈے کے قریب ایک علاقہ ہے جہاں ٹرکوں کو کان کنی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ میں نے کووڈ کے پیش نظر حکومت سے اسے روکنے کے لیے کہا تھا لیکن حکومت نہیں مانی اور بعد میں یہ کووڈ کا ہاٹ سپاٹ بن گیا۔‘‘


انہوں نے کہا ’’آج ملک میں لوگ سچ بولنے سے ڈرتے ہیں۔ میں وہی بولتا ہوں جو مجھے محسوس ہوتا ہے۔ حکومت موجودہ سرکاری عمارت کو گرا کر نئی تعمیر کرنا چاہتی تھی لیکن اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یہ تجویز اس وقت پیش کی گئی جب حکومت مالی بحران کا شکار تھی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔