دہلی سے مورینہ جا رہے شخص کی 200 کلو میٹر سفر کے بعد موت ’بھوک سے گئی جان‘

جاںبحق رنویر کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس کی موت بھوک کی وجہ سے ہوئی ہے، سکندرا پولیس اسٹیشن کے انچارج کلدیپ سنگھ کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ دل کا دورہ پڑنا بتایا گیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا وائرس کی دہشت اور لاک ڈاؤن کے درمیان دہلی سے مزدوروں کا اپنے گاؤں کی طرف پیدل سفر ہنوز جاری ہے۔ دریں اثنا، ایک شخص کی پیدل اپنے گاؤں جاتے وقت راستے میں موت ہو گئی۔ دہلی سے پیدل مورینہ (مدھیہ پردیش) کے بڑپھرا گاؤں کے لئے نکلے 39 سالہ شخص نے آگرہ کے سکندرا تھانہ علاقہ میں ہی دم توڑ دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ موت سے قبل رنویر نامی یہ شخص 200 کلومیٹر پیدل چل چکا تھا۔

بتایا جا رہا ہے کہ جمعہ کی شام 3 بجے رنویر اپنے ساتھیوں کے ساتھ دہلی سے اپنے گاؤں کے لئے روانہ ہوا تھا۔ شام کو 6 بجے اس نے اپنی بہن پنکی، جس کی شادی امباہ میں ہوئی ہے۔ فون کر کے بتایا کہ وہ فرید آباد آ گیا ہے اور جلد ہی گھر پہنچ جائے گا۔ ہفتے کی صبح آگرہ پہنچنے کے بعد اس کے ساتھی وہاں سے چلے گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ رنویر سنگھ کی صبح 6.30 بجے سکندرا پولیس اسٹیشن کے علاقے میں سڑک کنارے پر موت ہو گئی۔

وہیں، اہل خانہ کا کہنا ہے کہ رنویر کی موت بھوک اور پیاس کی وجہ سے ہوئی ہے۔ جبکہ سکندرا پولیس اسٹیشن کے انچارج کلدیپ سنگھ کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ دل کا دورہ پڑنا بتائی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق رنویر سنگھ دہلی کے ایک ہوٹل میں ٹفن پہنچایا کرتا تھا۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہوٹل کے مالک نے اس کی چھٹی کر دی تھی۔

رنویر کے بعد اس کے کنبہ میں بزرگ والدہ کے علاوہ اہلیہ ممتا، بیٹی گیتا، آرادھیا اور بیٹا انشو رہ گئے ہیں۔ رنویر تین سال قبل اپنے خاندان کی پرورش کے لئے نوکری کی تلاش میں دہلی آیا تھا۔ ہفتہ کی شام جب رنویر کی لاش بڑپھرا گاؤں پہنچی تو وہاں ماتم چھا گیا۔ بیوی، بچوں اور بوڑھی ماں کا رو رو کر برا حال ہے۔

    Published: 29 Mar 2020, 3:11 PM