کورونا وائرس کی دہشت پوری دنیا میں برقرار، اب تک 3100 سے زائد اموات

کورونا وائرس کا قہر تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے، لیکن اب بھی سب سے زیادہ متاثر چین کے لوگ ہی ہیں۔ دنیا کے 65 ممالک میں اب تک 3100 سے زائد افراد کی موت ہو چکی ہے جب کہ تقریباً 89000 افراد متاثر ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

بیجنگ / جنیوا / نئی دہلی: چین کے صوبہ ہبوئی کے دارالحکومت ووہان سے شروع ہونے والا خوفناک کورونا وائرس کی زد میں آکر دنیا کے 65 ممالک میں اب تک 3100 سے زائد افراد کی موت ہو چکی ہے جبکہ تقریباً 89000 افراد اس وائرس سے متاثر ہیں۔ کورونا وائرس کا قہر تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے لیکن اب بھی اس سے سب سے زیادہ متاثر چین کے لوگ ہی ہیں۔ اس وائرس کے حوالہ سے تیار کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق چین میں ہونے والی موت کے 80 فیصد کیس 60 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں پایا گیا تھا۔

ڈبلیو ایچ او(ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ) اور چین کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کی گئی ایک اور رپورٹ کے مطابق اس وائرس سے نوجوانوں کے مقابلہ بزرگ زیادہ تعداد میں متاثرہ ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صرف 2.4 فیصد معاملات میں 18 سال یا اس سے کم عمر کے لوگ متاثر تھے۔70 یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں میں شرح اموات آٹھ فیصد ہے جبکہ 80 یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں میں یہ شرح 14.8 فیصد ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے انفیکشن کو روکنے کے لئے ایک کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر کی مدد کی پیشکش کی ہے۔ اس فنڈ کا استعمال خاص طور پر کمزور صحت دیکھ بھال کے نظام والے کمزور ممالک میں کیا جائے گا۔

اٹلی، ایران اور جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کے کیس میں اچانک اور تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایران میں جہاں بحرین، عراق، کویت اور عمان سے منسلک زیادہ تر معاملے سامنے آئے وہیں اٹلی میں الجیریا، آسٹریا، کروشیا، جرمنی، اسپین اور سوئٹزرلینڈ میں منسلک معاملے سامنے آئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی امداد ڈبلیو ایچ او اوریونیسیف کو جاری کیا گیا ہے۔ اس وائرس کے پھیلاؤ کی نگرانی، کیس کی تحقیقات اور قومی لیبارٹری میں تحقیق سمیت ضروری سرگرمیوں میں مالی امداد دے گی۔ ڈبلیو ایچ او نے كورونا وائرس کے خلاف لڑنے کے لئے 67 کروڑ 50 لاکھ ڈالر جمع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ہندوستان میں پیر کو دو اور کورونا وائرس کے کیس کی تصدیق ہونے کے ساتھ ہی اب تک ’كووڈ -19‘ (نئے کورونا وائرس) کے پانچ معاملوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ وزارت صحت نے بتایا کہ دہلی میں ایک مریض میں کورونا وائرس انفیکشن کی تصدیق ہوئی ہے۔ وہ گزشتہ دنوں اٹلی سے ہوکر آیا تھا۔ ایک دوسرے کیس میں تلنگانہ میں ایک مریض کورونا وائرس سے متاثر پایا گیا ہے جو دبئی کے سفر سے واپس آیا تھا۔ دونوں کو ڈاکٹروں کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ اس سے پہلے تین کیس کیرالہ میں پائے گئے تھے۔

قابل غور ہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس کے حوالہ سب سے ہائی لیول زمرہ کا ایمرجنسی قرار دیا ہوا ہے۔ کورونا وائرس -’كووڈ -19‘ کے بڑھتے انفیکشن کو دیکھتے ہوئے حکومت نے لوگوں کو سنگاپور، جنوبی کوریا، ایران اور اٹلی کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر ڈاکٹرہرش وردھن نے ’كووڈ -19‘کے حالات کی اعلی سطحی جائزہ میٹنگ کے بعد کہا کہ جب تک ضروری نہ ہو ہندوستانی شہریوں کو سنگاپور، جنوبی کوریا، ایران اور اٹلی کے دورے سے بچنا چاہیے۔ انہوں نے 10 فروری تک جنوبی کوریا، ایران اور اٹلی کا دورہ کرنے والے لوگوں کو ’ قرنطینہ میں رہنے‘ کی بھی صلاح دی ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہم عالمی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں‘‘۔

اس دوران سول ایوی ایشن ڈائریکٹوریٹ جنرل نے ایک سرکلر جاری کر کے کہا ہے کہ اب اٹلی اور ایران سے آنے والے تمام مسافروں کی بھی جانچ کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی اب 12 ممالک سے آنے والے مسافروں کی جانچ کی جائے گی،ان میں چین، ہانگ کانگ، جاپان، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، سنگاپور، نیپال، انڈونیشیا، ویت نام اور ملیشیا سے آنے والے تمام مسافروں کی پہلے ہی تشخیص کی جا رہی ہے۔ ملک کے 21 ہوائی اڈوں، 12 بڑے بندرگاہوں اور 65 چھوٹے ہوائی اڈوں اور نیپال کی سرحد سے ملک میں داخل ہونے والے مسافروں کی صحت کی تشخیص کی جا رہی ہے۔

پوری دنیا میں کورونا وائرس کے انفیکشن سے متاثر لوگوں میں سے اب تک 42 ہزار افراد کو اس سے نجات دلائی گئی ہے۔ فی الحال متاثرہ افراد کی کل تعداد سرکاری رپورٹوں سے کافی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ ایک وبائی امراض کے سائنسداں نے پیش گوئی کی ہے کہ دنیا کی 60 فیصد آبادی بالآخر اس وائرس سے متاثر ہو سکتی ہے۔ یعنی وبا کی شکل اختیار کر چکے اس بیماری سے اب نجات کی امید نہیں ہے۔

next