کورونا وائرس کے لئے سبھی کا ’سیرم ٹسٹ‘ ہونا ضروری: ماہرین

ڈاکٹر وی ایس چوہان کا کہنا ہے کہ تجرباتی ویکسینز کے ٹسٹ کے ساتھ ساتھ حکومت کو تمام لوگوں کے خون کے ‘سیرم ٹسٹ’ شروع کر دینا چاہیے تاکہ پتہ چل سکے کہ کتنے لوگ کورونا وائرس سے اپنے آپ ٹھیک ہو گئے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: مشہور بایوٹک ماہر اور یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کے سابق صدر ڈاکٹر وی ایس چوہان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس (كووڈ -19) سے نمٹنے کے لئے پوری دنیا میں 35 تجرباتی ویکسینز پر کام جاری ہے اور ہندوستان میں بھی اس وائرس کے تجرباتی ویکسینز کو چوہوں وغیرہ پر تجربہ شروع ہو گیا ہے۔ اگر انسانوں پر بھی اس کا ٹسٹ کامیاب پایا گیا تو اگلے سال یہ ویکسین مارکیٹ میں آ جائی گی۔

ان کا کہنا ہے کہ تجرباتی ویکسینز کے ٹسٹ کے ساتھ ساتھ حکومت کو تمام لوگوں کے خون کے 'سیرم ٹسٹ' شروع کر دینا چاہیے تاکہ پتہ چل سکے کہ کتنے لوگ کورونا وائرس سے اپنے آپ ٹھیک ہو گئے ہیں کیونکہ ایک بار جب لوگ اپنی مدافعتی صلاحیت سے اس وائرس کو اپنے اندرمار دیتے ہیں توان کے دوبارہ متاثر ہونے کا امکان بہت ہی کم ہو جاتا ہے۔ اس ٹسٹ سے فائدہ یہ ہوگا کہ کوئی شخص ٹسٹ کراکر لاک ڈاؤن کے بعد کام پر جا سکے گا۔ اس سے کو رونا ہونے کا ڈر نہیں رہے گا۔

انٹرنیشنل سینٹرفار جنیٹک انجینئرنگ اینڈ بایو ٹکنالوجی کے ریٹائرڈ ڈائریکٹر ڈاکٹر چوہان نے ’یواین آئی‘ کو یہ بھی بتایا کہ کورونا وائرس کے لئے اب لوگوں کے ناک اور گلے کا ٹسٹ کیا جا رہا ہے لیکن سیرم ٹسٹ خون کا ہوتا ہے.۔ یہ اس وقت کیا جاتا ہے جب مریض اپنی دفاعی صلاحیت سے خود کورونا وائرس کو مار دیتا ہے لیکن اسے پتہ نہیں چلتا کہ کورونا وائرس سے وہ متاثرہوا تھا، کیونکہ اس کی علامات بہت معمولی ہوتی ہیں اور مریض دیکھنے میں صحت مند نظر آتا ہے۔

ڈاکٹر چوہان نے بتایا کہ کورونا وائرس کے کچھ مریضوں کو ایڈز، ملیریا اور ارتھرائٹس کی جو ادویات دی گئی ہیں ان ادویات کی باقاعدہ سائنسی تحقیقات اور ریسرچ اب تک نہیں ہو پائی تھی لیکن اب یہ کام ہندوستان میں بھی شروع ہونے والا ہے۔ اس جانچ اور تحقیق کے بعد یہ پتہ چل سکے گا کہ یہ ادویات کیا واقعی کورونا وائرس کے لئے کارگر ہیں۔ اگر تحقیق میں مثبت نتائج سامنے آتے ہیں تو ان ادویات سے اس وبا پر قابو پایا جا سکے گا۔

ہندوستان نے ان تحقیقات کے لئے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے یہ تحقیق و ریسرچ کا آغاز کر دیا ہے۔ امید ہے کہ کچھ ماہ میں اس کے نتیجے آ جائیں گے۔ اگر نتیجے کامیاب رہے تو اس سے امید کی کرن نظر آئے گی۔ ڈاکٹر چوہان نے کہا کہ ہندوستان کی دواساز کمپنیاں پونے کی ’سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا‘ اوراحمد آباد کی ’جائڈس كیڈیلا‘ نے چوہے وغیرہ پر تجرباتی ویکسینز کی آزمائش شروع کردی ہے اور اگر وہ ٹسٹ کامیاب رہا تو اس کے بعد انسانوں پر دو مراحل میں یہ ٹسٹ ہوں گے۔

اس کے بعد ہی ریگولیٹری اتھارٹی سے اس ویکسین کی منظوری ملے گی۔ اس کے بعد ان ویکسینز کی بڑے پیمانہ پر تیاری کے عمل کا آغاز ہو گا پھر وہ مارکیٹ میں آئیں گی۔ اس طرح جلدی کرنے پر بھی یہ ویکسین اگلے سال سے پہلے دستیاب نہیں ہوں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فورا تمام لوگوں کے لئے سیرم ٹسٹ لازمی کر دے۔ یہ سستا بھی ہے اور کسی کے خون کی جانچ میں کیلدی بھی ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 80 فیصد افراد کورونا وائرس سے خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں لیکن انہیں پتہ بھی نہیں چلتا کہ ان کی مزاحمت کی وجہ سے کورونا وائرس جسم کے اندر ہی ختم ہوگیا ہے۔ سیرم ٹسٹ سے اس کا پتہ چل سکتا ہے اور آپ تھوڑا مطمئن ہو سکتے ہیں کیونکہ ایک بار ہونے کے بعد دوبارہ یہ بیماری عام طور پر نہیں ہوتی۔

جنوبی کوریا اور امریکہ بھی یہ ٹسٹ شروع ہو چکے ہیں۔ اس ٹسٹ سے وہ لوگ ہٹ جائیں گے جنہوں نے کورونا وائرس کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے۔ اس کے بعد حکومت ان 20 فیصد افراد پر توجہ مرکوز کرے گی جو اس وائرس کی وجہ شدید بیمار ہیں جس سے حکومت اور ڈاکٹر کا کام آسان ہو جائے گا اور لوگوں میں جو دہشت ہے وہ بھی کم ہو جائے گی۔

’امریکہ میں اب تک 14 لاکھ لوگوں کا ٹسٹ کیا جا چکا ہے‘

امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے کہا ہے کہ جان لیوا کورونا وائرس 'كووڈ 19' کے معاملات کا پتہ لگانے کے لئے ملک بھر میں اب تک ریکارڈ 14 لاکھ لوگوں کا ٹسٹ کیا جا چکا ہے۔ پینس نے جمعہ کو صحافیوں سے بات چیت میں یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا’’ کورونا وائرس سے جڑے معاملات کی جانچ کے حوالہ سے ہم نے ابھی تک ملک بھر میں ریکارڈ 14 لاکھ لوگوں کی جانچ کی ہے۔"

قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ آغاز میں کورونا وائرس سے جڑے معاملات کی جانچ کے سلسلہ میں بھاری دباؤ میں آ گیا تھا جس کے بعد نائب صدر کا یہ بیان آیا ہے۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق اس خطرناک وائرس سے دنیا بھر میں اب تک 58 ہزار سے زائد مریضوں کی موت ہو چکی ہے اور تقریباً 10 لاکھ سے زیادہ لوگ اس وائرس کی زد میں آ چکے ہیں جبکہ دو لاکھ لوگ ٹھیک بھی ہو ئے ہیں۔ صرف امریکہ میں اس وائرس کے 274000 معاملے درج کیے گئے اور قریب 7077 افراد کی موت ہو چکی ہے۔