کورونا: پنجاب کے 60 ہزار این آر آئی غائب، ہریانہ میں پھیلا خوف، کئی اضلاع سیل

پنجاب میں موجود تقریباً 90 ہزار این آر آئی میں سے 60 ہزار غائب ہیں۔ اس خبر سے ہریانہ میں بھی دہشت پھیل گئی ہے۔ پنجاب سے ملحق ہریانہ کے تقریباً نصف درجن اضلاع میں پہرہ دینے کا حکم صادر ہو گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

دھیریندر اوستھی

ملک میں کورونا کے خوف کے درمیان ہریانہ کی سرحدیں پوری طرح سیل یعنی بند کر دی گئی ہیں۔ ہریانہ کی سرحدیں چاروں طرف سے کورونا وائرس کو لے کر بے حد حساس تصور کی جا رہی ہیں۔ اس درمیان دو مہینے میں پنجاب لوٹے 90 ہزار این آر آئی میں سے 60 ہزار کے غائب ہونے کی خبر سے ہریانہ میں بھی دہشت قائم ہو گئی ہے۔ حالات ایسے ہیں کہ پنجاب سے ملحق ہریانہ کے تقریباً نصف درجن اضلاع کے گاؤں میں ٹھیکری کے ذریعہ پہرہ دیئے جانے کا حکم صادر کر دیا گیا ہے۔

پنجاب سے سٹے انبالہ، کروکشیتر، کیتھل، جیند، فتح آباد اور سرسا اضلاع میں پنجاب کے ان این آر آئی ہندوستانیوں کے پہنچنے کا امکان ہے۔ حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان اضلاع میں سرپنچ خصوصی توجہ رکھیں اور کسی کو بھی گاؤں میں آنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اگر کوئی آتا بھی ہے تو اس کی اطلاع ضلع انتظامیہ کو دی جائے۔ سرپنچوں کو گاؤں میں ٹھیکری کے ذریعہ پہرہ اور چوکیداروں کے ذریعہ سے خصوصی منادی بھی کروانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ضلع انتظامیہ نے اس بات کی ہدایت دی ہے کہ بیرون ممالک سے، دوسری ریاستوں یا شہروں سے گزشتہ 15 دنوں میں گاؤں میں آئے لوگوں کے بارے میں ضلع ہیڈکوارٹر کو مطلع کیا جائے اور اگر ایسے اشخاص کی آمد گاؤں میں ہوتی ہے تو پورے گاؤں کو اچھی طرح سے سوڈیم کلورائیڈ اسپرے سے سینیٹائزیشن کروایا جائے اور اس فرد کے بارے میں جانکاری فوراً ضلع انتظامیہ کو دے کر کوارنٹائن کیا جائے۔ یہ حکم نائب وزیر اعلیٰ دشینت چوٹالہ کے حوالے سے دیا گیا ہے۔

دوسری طرف وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے بڑی تعداد میں مہاجر مزدوروں کے سفر کو دیکھتے ہوئے سبھی بین ریاستی اور بین ضلع سرحدیں سیل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو جہاں ہے، اسے وہیں روک کر رکھا جائے اور دوسری طرف جانے کی اجازت ہرگز نہ دی جائے۔

وزیر اعلیٰ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ضلع ڈپٹی کمشنروں اور پولس سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت دی ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے وہیں پر ریلیف کیمپ قائم کر کے ان کے کھانے پینے اور رہنے کا انتظام کیا جائے۔ اگر پھر بھی کوئی زبردستی کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ لوگوں کو راستوں پر رہنے کی اجازت بالکل نہیں دی جائے گی۔

چیف سکریٹری کیشنی آنند اروڑا نے بتایا ہے کہ ریاست بھر میں ضلع انتظامیہ کی جانب سے ضلعوں میں 129 ریلیف اور شیلٹر ہوم بنائے گئے ہیں۔ ان میں رکے ہوئے 29328 مزدوروں کو کھانا دیا جا رہا ہے۔ افسروں کے ساتھ میٹنگ میں انھوں نے ہدایت دی ہے کہ بین ریاستی سرحدوں اور بنائے گئے ریلیف و شیلٹر ہوم پر ہر مہاجر مزدور کی تھرمل اسکریننگ کے ساتھ ساتھ سبھی طرح کی طبی سہولیات مہیا کی جائے۔ اگر کسی میں کوئی بھی علامت نظر آئے تو ایسے مزدوروں کے کوارنٹائن کرنے کا انتظام بھی یقینی ہو۔ انھوں نے افسران کو یہ یقینی بنانے کے لیے ہدایت دی کہ ریاست میں مختلف صنعتی یونٹوں کو ان کے کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو ان کی تنخواہ دینے کے لیے کہا جائے اور یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ ان مزدوروں کو رہنے اور کھانے کی سہولت بھی دی جائے۔

next