کورونا کا ڈر: ہندو نوجوان کی ٹی بی سے ہوئی موت، 5 مسلم نوجوانوں نے ادا کی آخری رسومات

کورونا وائرس کا شبہ ہونے پر ہندو شخص کی آخری رسومات کے لئے کوئی بھی آگے نہیں آیا۔ پھر مسلم نوجوانوں نے سامنے آکر اس کی آخری رسومات ادا کی۔ اس عمل کی تلنگانہ کے وزیر تارک راما راؤ نے ستائش کی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تارک راما راؤ نے ہندو دوست کی آخری رسومات انجام دینے والے پانچ مسلم نوجوانوں کی ستائش کی اور کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب ہر کوئی یہ سمجھتے ہوئے کہ کورونا سے یہ موت ہوئی ہے، اس سے دور رہ رہا تھا، ایسے وقت میں یہ مسلم نوجوان آگے آئے جنہوں نے آخری رسومات انجام دی۔

تارک راما راؤ جو تلنگانہ کے وزیراعلی کے چندرشیکھرراؤ کے فرزند اور ریاست کی حکمران جماعت ٹی آر ایس کے کارگزار صدر بھی ہیں، نے اس خصوص میں کیے گئے ٹوئٹ میں ایک مشہور انگریزی اخبار کی خبر کو بھی پوسٹ کیا جس میں خبر کے ساتھ تصویر بھی لگائی گئی اور خبر میں کہا گیا کہ شہر حیدرآباد میں پانچ مسلم نوجوانوں نے ٹی بی سے مرنے والے اپنے ہندو دوست کی آخری رسومات انجام دی ہے، جبکہ اس کے پڑوسی خوفزدہ تھے کہ کورونا وائرس سے اس شخص کی موت واقع ہوئی ہے۔

شہر کے خیریت آباد علاقہ سے تعلق رکھنے والے 50 سالہ وینو مدیراج کی موت عثمانیہ اسپتال میں ہوئی تھی جس کے بعد اس کے ارکان خاندان اس کی لاش کو اسپتال سے گھر لائے جس کے بعد وینو کے بچوں اور وینو کے چچا پر پڑوسیوں نے لاش کو گھر لانے پر برہمی ظاہر کی تھی اور الزام لگایا تھا کہ وینو کی موت اس موذی وائرس سے ہوئی ہے۔

بچوں کے پاس آخری رسومات انجام دینے کے لئے بھی رقم نہیں تھی۔ ان کی ماں چند سال پہلے چل بسی تھی۔ اس علاقہ کے سماجی جہدکار صدیق بن سلام نے کہا کہ اس علاقہ میں رہنے والا کوئی بھی آخری رسومات کے لئے آگے نہیں آیا ہے، اسی لئے انہوں نے اپنے چار دوستوں کے ساتھ اس خاندان کی مدد کی۔

صدیق بن سلام، محمد ماجد، عبدالمقتدر، محمد احمد اور شیخ قاسم نے پولیس سے آخری رسومات کی اجازت لی اور وینو کے خاندان کے ارکان کے ساتھ ساتھ ارتھی جلوس میں شامل ہونے والے افراد کے لئے کھانے کا انتظام کیا۔ سلام نے کہا کہ ایک ایسے وقت جب ہمارے طبقہ کو کورونا وائرس پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہم ایک مثال قائم کرنا چاہتے ہیں کہ ہم تقسیم اور منافرت پھیلانے کی کوششوں کے باوجود کس طرح متحد ہیں۔ ان مسلم افراد نے ارتھی جلوس میں ماسک کا استعمال کیا۔ کے تارک راما راہ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ شہر حیدرآباد کی گنگا-جمنی تہذیب کے چیمپین ایسے افراد پر انہیں فخر ہے۔