ہندوستان میں کورونا کی صورتحال انتہائی دلخراش: عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے پیر کے روز ہندوستان میں کورونا کی مہلک دوسری لہر اور ریکارڈ تعداد میں رپورٹ ہو رہے نئے کیسز اور اموات پر تشویش کا اظہار کیا ہے

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم / تصویر یو این آئی
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم / تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

جنیوا: عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے پیر کے روز ہندوستان میں کورونا کی مہلک دوسری لہر اور ریکارڈ تعداد میں رپورٹ ہو رہے نئے کیسز اور اموات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم بحران کو دور کرنے میں ہر ممکن امداد فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال انتہائی دلخراش ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیدروس ایڈہانوم کا یہ تبصرہ ہندوستان میں چل رہی کورونا کی خوفناک لہر کے تعلق سے کیا گیا ہے، جبکہ ملک میں اسپتال اور شمشان گھاٹ پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ہندوستان میں گذشتہ 4 دنوں سے یومیہ 3 لاکھ سے زیادہ کورونا کیسز سامنے آ رہے ہیں جب کہ اتوار کے دن ساڑھے 3 لاکھ مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔ عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہندوستان کی راجدھانی نئی دہلی میں صورت حال انتہائی ابترہو چکی ہے۔


خبر رساں ایجنسی کے مطابق صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عارضی طور پر قائم کیے جانے والے شمشان گھاٹوں میں اجتماعی طور پر آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ کیجریوال نے دہلی میں ایک ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن میں توسیع کا اعلان کیا ہے جو اب 3 مئی تک جاری رہے گا۔

ٹیڈروس نے کہا، ’’عالمی ادارہ صھت وہ سب کچھ کر رہا ہے جو ہم کر سکتے ہیں۔ اہم آلات اور دیگر سامان کی فراہمی کی جا رہی ہے۔‘‘ ایڈہونوم نے کہا کہ ’’ہندوستان کی مدد کے لیے ہزاروں کی تعداد میں آکسیجن سپلائیز، موبائل اسپتال اور دیگر ضروری طبی سامان بھجوایا گیا ہے۔‘‘

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ پولیو اورٹی بی سمیت مختلف پروگراموں میں کام کرنے والے 2 ہزار 600 ماہرین کو ہندوستان منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ وبا سے نمٹنے کے لیے ہندوستانی ماہرین صحت کے ساتھ مل کر کام کریں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔