کورونا مریضوں کا تناؤ کتابیں پڑھنے سے ہوا دوور

نیشنل بک ٹرسٹ نے کتابوں کے ذریعے اس تناؤ کو دور کرنے کے اس منفرد منصوبہ کو پہلی بار غازی آباد میں نافذ کیا گیا ہے جہاں 250 افراد کوارنٹائن میں ہیں۔ ملک میں پہلی بار یہ منفرد تجربہ استعمال کیا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: کورونا وائرس وبا کے دوران کوارنٹائن سینٹر میں لوگ نیشنل بک ٹرسٹ (این بی ٹی) کی کتابیں پڑھ کر اپنا ڈپریشن مٹا رہے ہیں اور ذہنی دباؤ بھی دور کر رہے ہیں۔ نیشنل بک ٹرسٹ نے کتابوں کے ذریعے اس تناؤ کو دور کرنے کے اس منفرد منصوبہ کو پہلی بار غازی آباد میں نافذ کیا گیا ہے جہاں 250 افراد کورونا وائرس مشتبہ کوارنٹائن میں ہیں۔ ملک میں پہلی بار یہ منفرد تجربہ استعمال کیا گیا ہے۔

نیشنل بک ٹرسٹ کے ڈائریکٹر یوراج ملک نے ’یواین آئی‘ کو بتایا کہ غازی آباد کے ضلع مجسٹریٹ اجے شنکر پانڈے کے تعاون سے یہ اسکیم نافذ کی گئی ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل بک ٹرسٹ نے كوارنٹائن کیے گئے مشتبہ مریضوں کو 200 کتابیں تقسیم کیں جن میں زیادہ تر اطفال ادب کی کتابیں تھیں۔ اس کے علاوہ ٹرسٹ کی میگزین کتاب ثقافت بھی تقسیم کی گئی۔ ان مریضوں نے فارغ وقت میں ان کتابوں سے لطف اٹھایا اور اپنے ذہنی دباؤ دور کیے۔

یوراج ملک نے کہا کہ اس منصوبہ کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے وہ جلد ہی دہلی کے علاقوں میں بھی اس اسکیم کو لاگو کرنے جا رہے ہیں۔ غازی آباد کے ضلع مجسٹریٹ پانڈے نے کہا کہ نیشنل بک ٹرسٹ نے اپنی اس خوبصورت مہم سے کورونا وائرس سے پریشان لوگوں کو سکون اور ذہنی راحت دی هے۔ لوگوں نے وقت کا مثبت استعمال بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ كوارنٹائن کیمپ میں تقریباً 250 لوگ تھے جن میں 65 خواتین تھي اور سبھی نے پوری توجہ سے ان کتابوں کا مطالعہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم ٹرسٹ کے بہت زیادہ شکر گزار ہیں کہ اس نے ہمارے ساتھ تعاون کر کے اس منفرد منصوبہ کی شروعات کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جلد ہی غازی آباد کے دیگر علاقوں میں بھی اس اسکیم کو لاگو کرنا چاہتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس کا فائدہ مل سکے۔ اس لاک ڈاؤن کے وقت میں انسان کی بہترین رفیق کتابیں ہی ہو سکتی ہیں اور ان کتابوں کے ساتھ ہم بات چیت بھی کرتے ہیں۔ دہلی سے متصل غازی آباد میں کورونا وائرس کا گہرا اثر ہے اور وہ اورنج زون میں ہے۔