’خوابوں کے شہر نے ہمیں بہت مایوس کیا، اب کبھی نہیں جائیں گے‘

کورونا بحران میں اپنے اپنے خوابوں کے شہر سے لوٹ رہے لوگ اب کہہ رہے ہیں کہ وہ دوبارہ اس شہر میں جانا پسند نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب باقی کا وقت وہ اپنے لوگوں کو دیں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

شہر خواب دکھاتے ہیں۔ جتنا بڑا شہر اتنا بڑا خواب۔ خواب ترقی کا، خوشحالی کا اور بہتر امکانات کا۔ یہی خواب گاؤں سے لوگوں کو بڑے شہروں تک کھینچ کر لے جاتا ہے۔ لوگ اپنے گھر اور اپنی فیملی سے دور خوابوں کے شہر میں پہنچ جاتے ہیں تاکہ اپنا بھی مستقبل سنوار سکیں اور گھر والوں کی اچھی پرورش بھی کر سکیں۔ مشکل حالات میں رہ کر وہاں کی خوشحالی اور ترقی میں اپنی پوری زندگی گزار دیتے ہیں۔ اتنی قربانیکے بعد جب کورونا بحران آیا تو کروڑوں لوگوں کوخوابوں کے شہروں نے کافی مایوس کیا۔ وہ بھی بری طرح سے۔

اپنے اپنے خوابوں کے شہر سے لوٹ رہے لوگ اب یہی کہہ رہے ہیں کہ وہاں کبھی نہیں جانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب باقی کا وقت اپنے لوگوں کو دیں گے۔ جو بھی اپنا ہنر ہے، اس کے ذریعہ اپنی ہی ریاست کی خوشحالی میں تعاون کریں گے۔ الگ الگ ریاستوں سے آنے والے کچھ ایسے ہی مہاجر مزدوروں اور کامگاروں سے گورکھپور ریلوے اسٹیشن پر بات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ سفر میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی اور حکومت نے گھر تک چھوڑنے کا انتظام بھی کر رکھا ہے۔

مہاراج گنج کے رام دین لدھیانہ میں کپڑے کا کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "کورونا بحران میں سمجھ آیا کہ اپنے گاؤں، اپنی مٹی کی اہمیت کیا ہوتی ہے۔ باہر رہنے پر بہت پریشانیاں ہیں۔ یہاں آنے پر پتہ چلا کہ حکومت روزگار کا بھی انتظام کرے گی۔ اب ٹھیک ہے، سب کچھ دھیرے دھیرے بہتر ہو جائے گا۔"

شہروں میں بہت سارا پیسہ کمانے گئے راہل بھی یہی سوچتے ہیں کہ دو پیسے کم ملے، لیکن اپنے گاؤں میں رہ کر جو چھوٹا موٹا روزگار ہوگا، اسی سے پیٹ بھر لیں گے۔ باہری ریاستوں میں وہ اپنائیت نہیں ہے جو یہاں ہے۔ وبا کے وقت میں سب کچھ دیکھنے کو مل گیا۔ اپنے پرائے کی سمجھ بھی حاصل ہو گئی۔

Published: 22 May 2020, 8:40 PM