نئی تحقیق میں کورونا انفیکشن والے مریضوں کو تھائرائیڈ ہونے کا اندیشہ

کورونا وائرس کی دوا ابھی تک سامنے نہیں آئی، لیکن اس سے ہونے والی دوسری بیماریوں کے خدشے سے لوگ خوفزدہ ہیں۔ تازہ تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ کورونا انفیکشن والے مریضوں کو تھائرائیڈ کا بھی مسئلہ ہو سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا وائرس سے متاثر ہوئے مریضوں کو ایک سوزن سے متعلق تھائرائیڈ بیماری 'سبسیوٹ تھائرائیڈیٹس' ہو سکتی ہے۔ ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ محققین نے بتایا کہ سبسیوٹ تھائرائیڈیٹس ایک سوزن تھائرائیڈ مرض ہے۔ اس کی خاصیت ہے کہ اس کے سبب گردن میں درد ہوتا ہے اور یہ عام طور پر ایک اوپری ریسپریٹری ٹریکٹ انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔

دی جرنل آف کلینیکل اینڈوکرینولاجی اینڈ میٹابولزم میں شائع ایک نئے معاملے کے مطالعے کے مطابق یہ ایک وائرل انفیکشن یا ایک پوسٹ وائرل انفلامیٹری ریکشن کے سبب ہو سکتا ہے اور کئی وائرس ایسے ہیں جو مرض سے جڑے ہوئے ہیں۔ سنگین سانس پر مبنی علامتوں کے ساتھ سارس-کوو-2 (کووڈ-19) ایک وبا کی شکل میں سامنے آیا ہے اور اس میں دیگر اعضا شامل ہو سکتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر لوگوں کی تعداد عالمی سطح پر 52 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔

بہر حال، اٹلی کے یونیورسٹی ہاسپیٹل آف پیسا کے محققین فرانسسکو لیٹراف کا کہنا ہے کہ "ہم نے سارس-کوو-2 انفیکشن کے بعد سبسیوٹ تھائرائیڈیٹس کے پہلے معاملے کی اطلاع دی۔ معالجوں کو کووڈ-19 سے متعلق اس اضافی اندیشہ کے بارے میں محتاط کیا جانا چاہیے۔"