کورونا: مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ، اراکین اسمبلی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں کٹوتی

وزیر اعلیٰ اور اراکین اسمبلی کی تنخواہ میں 60 فیصد کٹوتی ہوگی جبکہ گریڈ اے-گریڈ بی کے افسران کی تنخواہ میں 50 فیصد اور گریڈ سی کے ملازمین کی تنخواہ میں 25 فیصد کی کٹوتی کی جائے گی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان کورونا کے خلاف جنگ میں ہر طرح کے احتیاطی اقدام کر رہا ہے لیکن کورونا پازیٹو کیسوں کی تعداد لگاتار بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ کورونا کی وجہ سے بے حال ہندوستانی ریاستوں کی فہرست میں ریاست مہاراشٹر سب سے اوپر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادھو ٹھاکرے حکومت نے کئی سخت قدم کورونا پر قابو پانے کے لیے اٹھائے ہیں۔ تازہ فیصلہ انھوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں کٹوتی سے متعلق کیا ہے۔ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر مالیات اجیت پوار نے منگل کے روز میڈیا کو بتایا کہ کورونا وبا سے لڑائی جاری ہے اور اب سرکاری نمائندوں، افسروں اور ملازمین کی تنخواہ میں کٹوتی کیے جانے کا وقت آ گیا ہے۔

اجیت پوار نے اپنے بیان میں کہا کہ کورونا کے خلاف لڑائی آسان نہیں ہے اور اس میں سبھی لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سمیت سبھی اراکین اسمبلی اور اراکین قانون سازیہ کی مارچ مہینے کی تنخواہ سے 60 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔

وزیر مالیات پوار نے سرکاری ملازمین کی تنخواہ کٹوتی سے متعلق جانکاری بھی میڈیا کو دی۔ انھوں نے بتایا کہ گریڈ اے-گریڈ بی کے افسران کی تنخواہ میں 50 فیصد اور گریڈ سی کے ملازمین کی تنخواہ میں 25 فیصد کی کٹوتی کی جائے گی جب کہ گریڈ ڈی کے ملازمین کی تنخواہ میں کوئی کٹوتی نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ مہاراشٹر میں منگل کو کورونا انفیکشن کے پانچ تازہ معاملے سامنے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں کورونا سے متاثر مریضوں کی تعداد بڑھ کر 230 ہو گئی ہے۔ ریاست کے مختلف حصے میں پیر تک 4538 لوگوں کو آئسولیٹ کیا گیا تھا جن میں سے 3876 لوگوں میں انفیکشن نہ ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

next