محض شادی کے لئے تبدیلی مذہب ناقابل قبول: الہ آباد ہائی کورٹ

ایک مسلم خاتون نے ہندو نوجوان سے شادی کرنے کے لئے ایک ماہ قبل مذہب تبدیل کیا تھا۔ ہائی کورٹ کی سنگل بنچ کے جج مہیش چندر ترپاٹھی نے 23 ستمبر کو جوڑے کی عرضی خارج کر دی۔

الہ آباد ہائی کورٹ
الہ آباد ہائی کورٹ
user

قومی آوازبیورو

الہ آباد: اترپردیش کی الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ صرف شادی کے لئے تبدیلی مذہب کو قبل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے ایک سابقہ عدالتی فیصلہ کی روشنی میں یہ فیصلہ سنایا۔ عرضی گزار شادی شدہ جوڑے نے اپنی عرضی میں شادی کے تین مہینے کے بعد حفاظت کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت عالیہ سے گہار لگائی تھی۔ اس معاملہ میں ایک مسلم خاتون نے ہندو نوجوان سے شادی کرنے کے لئے ایک ماہ قبل مذہب تبدیل کیا تھا۔ ہائی کورٹ کی سنگل بنچ کے جج مہیش چندر ترپاٹھی نے 23 ستمبر کو جوڑے کی عرضی خارج کر دی۔

عرضی میں پریانشی عرف سمرین اور اس کے ساتھی نے کورٹ سے گہار لگائی تھی کہ اس کے اہل خانہ کو ہدایت دی جائے کہ وہ جبراً کوئی قدم اٹھا کر اس کی شادی شدہ زندگی میں مداخلت نہ کریں۔ اپنے فیصلہ میں جسٹس ترپاٹھی نے کہا کہ خاتون پیدائشی مسلمان تھی اور شادی سے عین قبل اس نے مذہب تبدیل کیا۔ عدالت نے معاملہ کا جائزہ لیا تو پایا کہ خاتون نے 29 جون کو مذہب تبدیل کیا ہے اور 31 جولائی کو ہندو نوجوان سے شادی کی۔ اس سے صاف ہے کہ مذہب کی تبدیلی صرف شادی کے لئے کی گئی ہے۔

جج نے سال 2014 کے نور جہاں بیگم کے ایسے ہی ایک معاملہ میں الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے سنائے گئے فیصلہ کا بھی ذکر کیا۔ اس فیصلہ میں عدات نے کہا تھا کہ صرف شادی کے لئے تبدیلی مذہب کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے شادی شدہ جوڑے کو اپنا بیان درج کرنے کے لئے متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے کی چھوٹ دی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔