ممبئی میں دیوالی کی لائٹنگ پر ’عید میلاد النبی‘ لکھے جانے پر تنازعہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر شیواجی پارک کا ’عید میلاد النبی‘ والا جو پیغام دکھایا جا رہا ہے وہ ویڈیو اتوار کا ہے، دعویٰ کیا گیا ہے کہ کسی نے اسے ٹیسٹنگ کے دوران ریکارڈ کیا ہوگا۔

علامتی، تصویر آئی اے این ایس
علامتی، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

ممبئی واقع شیواجی پارک میں دیوالی کے پیش نظر زبردست سجاوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ رنگ برنگی لائٹس لگائی گئی ہیں اور ایک بڑا سا اسکرین بھی ہے جس پر لوگوں کو دیوالی کی مبارکباد والا پیغام نشر ہونا ہے۔ لیکن ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں اس اسکرین پر ’عید میلاد النبی‘ کا پیغام چلتا ہوا دکھایا گیا ہے۔ اس تعلق سے اب تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے اور بی جے پی نے یہ سوال کھڑا کیا ہے کہ کیا ہم پاکستان میں رہ رہے ہیں۔

دراصل گزشتہ 8 سال سے دیوالی کے موقع پر شیواجی پارک میں راج ٹھاکرے کی پارٹی مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) لائٹنگ کا انتظام کرواتی آ رہی ہے۔ اس سال بھی یہ انتظام ایم این ایس نے ہی کیا ہے۔ جب اسکرین پر ’عید میلاد النبی‘ کے پیغام کو لے کر بی جے پی نے ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تو، فوراً ایم این ایس صفائی دینے کے لیے سامنے آئی۔ ایم این ایس کارکن یشونت کلیدھر نے بتایا کہ ہو سکتا ہے کہ لائٹ کی سیٹنگ کے وقت عید میلاد النبی لکھ کر آ گیا ہو، کیونکہ سسٹم میں پرانی چیزیں لوڈ رہتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہوا ہے وہ غلطی سے ہوا ہے، ایسا قصداً نہیں کیا گیا۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر شیواجی پارک کا ’عید میلاد النبی‘ والا جو پیغام دکھایا جا رہا ہے، وہ ویڈیو اتوار کا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کسی نے اسے ٹیسٹنگ کے دوران ریکارڈ کیا ہوگا۔ کلیدھر کا بھی کہنا ہے کہ انھوں نے اس لائٹنگ کا افتتاح پیر کے روز دیر شام کیا ہے اور ایم این ایس کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ ایم این ایس کارکن نے یہ بھی کہا کہ افتتاح کیے جانے کے بعد اگر عید میلاد النبی والا پیغام اسکرین پر چلتا تو یہ ہماری غلطی ہوتی، لیکن ایسا نہیں ہوا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ شیواجی پارک کی دیوالی لائٹنگ میں عید میلاد النبی والے پیغام کو تنقید کا نشانہ مرکزی وزیر نارائن رانے کے بیٹے اور بی جے پی رکن اسمبلی نتیش رانے نے بنایا ہے۔ انھوں نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے ’’اب کیا بچا۔ شیواجی پارک کی سجاوٹ میں ہیپی دیوالی کی جگہ عید میلاد النبی لکھ کر آ رہا ہے۔ تو اب مہاراشٹر میں ہندوؤں کی کوئی گنتی نہیں ہے۔ اس ایم وی اے حکومت کو ہمارے تہواروں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کیا ہم پاکستان میں رہ رہے ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔