بنگلورو کے عیدگاہ میدان پر پھر تنازعہ، ہندو تنظیموں کا گنیش اتسو منانے کا مطالبہ

ریاستی وقف بورڈ عیدگاہ میدان میں گنیش کی مورتیوں کو نصب کرنے کی اجازت دینے کے سلسلہ میں سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے۔

بنگلورو کی عیدگاہ / آئی اے این ایس
بنگلورو کی عیدگاہ / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

بنگلورو: کرناٹک کی راجدھانی بنگلورو میں واقع عیدگاہ میدان پر تنازعہ لگاتار جاری ہے۔ ریاستی وقف بورڈ عیدگاہ میدان میں گنیش کی مورتیوں کو نصب کرنے کی اجازت دینے کے سلسلہ میں سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے، جس پر کرناٹک میں بی جے پی حکومت نے کہا کہ وہ 30 اگست تک عدالت کے فیصلے کا انتظار کرے گی۔

ریاستی محصولات کے وزیر آر اشوک نے کہا کہ 31 اگست سے متنازعہ مقام پر مذہبی اور ثقافتی پروگراموں کو محدود مدت کے لیے اجازت دینے کے لیے جمعہ کو جاری ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق، حکومت نے 30 اگست تک انتظار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اشوک نے کہا کہ ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں کیویٹ داخل کیا ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ کچھ لوگ پیر کو سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔


خیال رہے کہ اس سال گنیش چترتھی کا تہوار 31 اگست کو منایا جائے گا۔ یہ تہوار عموماً تین سے گیارہ دن تک جاری رہتا ہے۔ اگست میں یہ دوسرا موقع ہے جب عیدگاہ گراؤنڈ پر تنازعہ ہو رہا ہے۔ قبل ازیں، اس مقام پر اس وقت تنازعہ ہوا تھا جب دائیں بازو کی تنظیموں نے میدان پر قومی پرچم لہرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ کرناٹک کے وقف بورڈ کا دعویٰ ہے کہ یہ اس کی ملکیت ہے جبکہ دیگر کا دعویٰ ہے کہ یہ میونسپل کارپوریشن یا بی بی ایم پی کی ملکیت ہے۔

ہائی کورٹ کی سنگل جج کی بنچ کے فیصلہ سنانے کے بعد آخرکار یوم آزادی کے موقع پر عیدگاہ میدان پر قومی پرچم لہرایا گیا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ اس مقام کا استعمال عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی نماز کے علاوہ یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کی تقریبات کے لئے بھی کیا جا سکتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔