متنازعہ زرعی بل راجیہ سبھا میں پیش، سڑکوں پر کسانوں کا احتجاج

خیال کیا جا رہا ہے کہ حکومت کو اس بل کو منظور کرانے میں زیادہ دقت پیش نہیں آئے گی، کیونکہ اس سے پہلے بھی اکثریت نہ ہونے کے باوجود مودی حکومت کئی مرتبہ متنازعہ بلوں کو منظور کرا چکی ہے

زرعی بل کے خلاف احتجاج کرتے کسان / Getty Images
زرعی بل کے خلاف احتجاج کرتے کسان / Getty Images
user

عمران

نئی دہلی: تنازعات سے پُر اور لوک سبھا سے منظور کئے جا چکے زراعت سے متعلق تین بلوں کو آج راجیہ سبھا میں پیش کیا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اس ایوان بالا میں این ڈی اے کے پاس اکثریت نہیں ہے اور اس کے ایک حلیف اکالی دل نے اپنے تین ارکان پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ بل کے خلاف ووٹ کریں۔ تاہم، خیال کیا جا رہا ہے کہ حکومت کو اس بل کو منظور کرانے میں زیادہ دقت پیش نہیں آئے گی، کیونکہ اس سے پہلے بھی اکثریت نہ ہونے کے باوجود مودی حکومت کئی مرتبہ متنازعہ بلوں کو منظور کرا چکی ہے۔

زراعت سے متعلق جن تین بلوں کو آج راجیہ سبھا میں پیش کیا جا رہا ہے وہ ہیں، زرعی پیداوار تجارت (فروغ اور سہولت) بل، پرائس گارنٹی اور زرعی خدمات سے متعلق کسان (تفویض اختیارات اور تحفظ) معاہدہ بل، ضروری اشیاء ترمیمی بل 2020۔ ان بلوں کی مخالفت میں شرومنی اکالی دل کی ہرسمرت کور بادل اپنی عہدہ وزارت سے استعفی پیش کر چکی ہیں۔

اعداد و شمار پر غور کریں تو راجیہ سبھا میں 110 ارکان زرعی بل کے خلاف ہیں،۔ جبکہ حکومت کی حمایت میں 114 ارکان بتائے جا رہے ہیں اور اسے بل کو منظور کرانے کے لئے 8 مزید ووٹ درکار ہیں۔ کورونا کے دور میں کئی ممبران کے غیر حاضر رہنے کا بھی امکان ہے اور اس کا حکومت کو فائدہ ملے گا، کیونکہ اس صورت میں اکثریت کا ہدف 122 سے کم ہو جائے گا۔

بی جے پی نے راجیہ سبھا کے اپنے تمام ارکان کے لئے تین لائن کا وہپ جاری کرکے کہا ہے کہ ارکان پارٹی کے موقف کی حمایت کریں۔

ادھر، ہریانہ اور پنجاب کے کسان زرعی بلوں کی پُر زور مخالفت کر رہے ہیں سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ ہریانہ کے کسان آج چکا جام کرنے جا رہے ہیں۔ چکا جام کے تحت کسان یونین سمیت کئی تنظیموں کی کال پر ریاست کے تمام اضلاع میں اہم شاہراہوں کو بلاک کریں گے۔ کسان یونین کے مطابق دوپہر 12 بجے سے تین بجے تک ہائی وے جام کر کے احتجاج کیا جائے گا۔

وہیں، ہریانہ کے وزیراعلی منوہر لال کھٹر نے مرکز کے زراعت سے متعلق تین بلون کو کسانوں کے مفاد میں قرار دتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں پر کسانوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔

وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے کہا کہ کسان تحریک کا راستہ چھوڑ کر بات چیت کے لئے آگے آئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مرکزی حکومت کسانوں کے مفادات اور ان کی اقتصادی حالت میں بہتری لانے کے لئے پرعزم ہے اور اسی لئے وہ تین آرڈی ننس لیکر آئی ہے۔ انہوں کہا کہ جمہوریت میں تمام کو اپنی بات رکھنے کا حق ہے لیکن ریاست میں امن قائم رکھنا حکومت کا فرض ہے۔انہوں نے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ اپوزیشن جماعتیں سیاسی روٹیاں سینکنے کے لئے کسانوں کو اس معاملہ پر گمراہ کررہی ہیں۔

ادھر، پنجاب میں بھی مظاہرہ کا سلسلہ جاری ہے۔ پنجاب کے کسان 24 سے 26 ستمبر کے درمیان 48 گھنٹے تک ریل روکو تحریک چلائیں گے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ دو دن تک پنجاب میں کوئی ٹرین نہیں چلے دی جائے گی۔ 25 ستمبر کو پنجاب بند کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

next