دہلی تشدد: مودی حکومت کا پارلیمنٹ میں بحث سے بھاگنا صحت مند روایت نہیں

آئین کے ماہر پی ڈی ٹی اچاری کا کہنا ہے کہ دو دن سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں برسراقتدار طبقہ کا رویہ پوری طرح غلط اور پارلیمانی ضابطوں و روایات کی خلاف ورزی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اوما کانت لکھیڑا

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات پر بحث سے بھاگنے کو لے کر مودی حکومت آئین کے ماہرین کی تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ کئی مشہور و معروف ماہرین آئین کے گلے سے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی یہ دلیل نہیں اتر رہی ہے کہ دہلی فسادات پر ایوان میں بحث کرنے کے لیے یہ مناسب وقت نہیں ہے اور ہولی کی چھٹیوں کے بعد بحث ہو۔

سابق لوک سبھا جنرل سکریٹری اور آئینی معاملوں کے ماہر ڈاکٹر سبھاش کشیپ کا ماننا ہے کہ صاف طور پر سیاسی وجوہات سے دہلی میں رونما تشدد جیسے بڑے ایشو پر بحث سے مودی حکومت بچنا چاہتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ پارلیمانی ضوابط اور قوانین کے حساب سے یہ لوک سبھا اسپیکر کے شعور کے دائرے میں آتا ہے کہ وہ کس موضوع پر ترجیح کی بنیاد پر بحث کرائے۔

ڈاکٹر کشیپ کا اپنا ماننا ہے کہ مفاد عامہ اور آئینی جوابدہی کے لحاظ سے جہاں اتنے لوگ ایک ساتھ فرقہ وارانہ تشدد کے شکار ہوئے ہیں، اس پر حکومت کی ایوان کے تئیں جوابدہی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’میری رائے میں اگر اپوزیشن اس مسئلہ پر پارلیمنٹ میں بحث چاہتا ہے تو مفاد عامہ میں اس میں کچھ بھی غلط یا نامناسب نہیں ہے۔‘‘

پیر سے شروع ہوئے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلہ کے پہلے دو دن مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ فساد میں مرنے والوں کی تعداد 47 ہو گئی۔ اس پورے تشدد کے فرقہ وارانہ شکل اختیار کرنے اور تیزی سے پھیلنے کے بعد دہلی پولس کا کردار پوری طرح مایوس کن رہا، جن میں دونوں ہی اہم طبقات کے لوگ بری طرح تشدد کے شکار ہوئے۔ ہندو اور مسلم دونوں طبقہ کے ایسے لوگوں کی طویل فہرست ہے جنھوں نے اپنے گھروں کے باہر فسادیوں کے تشدد اور آگ زنی کے درمیان سیکورٹی کے لیے پولس کنٹرول روم اور تھانوں میں فون کیے، لیکن مایوسی ہاتھ لگی۔ پورے تشدد کے دوران پولس کئی جگہوں پر خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔

لوک سبھا کے ایک سابق جنرل سکریٹری اور آئین کے ماہر پی ڈی ٹی اچاری کہتے ہیں کہ ’’دو دن سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں برسراقتدار طبقہ کا رویہ پوری طرح غلط اور پارلیمانی ضابطوں و قاعدوں اور روایات کی خلاف ورزی ہے۔ تشدد میں جان و مال کو زبردست نقصان ہوا، اس پر پارلیمنٹ کی اجتماعی فکر ظاہر ہونی چاہیے۔ یہ عرصہ سے ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔‘‘ اچاری کہتے ہیں کہ ایک سطر میں سمجھیں تو مودی حکومت کو لگتا ہے کہ پارلیمنٹ میں بحث ہوگی تو وزارت داخلہ اور دہلی پولس کے کام پر کیچڑ اچھلے گا۔ حکومت کے پاس جواب نہیں ہوگا اور بے عزتی بھی ہوگی۔

مودی حکومت پارلیمانی بحث کو کیوں ٹالنا چاہتی ہے، اس سوال پر اچاری کہتے ہیں ’’یہ سب جانتے ہیں کہ ایک خاص طبقہ کے خلاف دہلی الیکشن اور اس کے بعد بی جے پی کے کئی لیڈروں کی اشتعال انگیز بیان بازی کے سبب فرقہ وارانہ تشدد پھیلا۔ پوری دنیا میں حکومت ہند کی بدنامی ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت کئی بین الاقوامی ادارے ہماری حکومت کو گھیر رہے ہیں اور پی ایم مودی کی خاموشی پر سوال کھڑے کر رہے ہیں۔ بحث ٹال کر حکومت اس انتظار میں وقت کاٹنا چاہتی ہے کہ کچھ دن بعد نئے ایشوز سامنے آنے کے بعد اپوزیشن اور عام لوگوں کی نظر میں یہ ایشو پرانا ہو جائے گا تو بحث کی خواہش خود ہی ختم ہو جائے گی۔‘‘

راجیہ سبھا کے سابق جنرل سکریٹری وی کے اگنیہوتری کا رد عمل اس پورے معاملے پر ملا جلا سامنے آیا۔ وہ مانتے ہیں کہ ایوان چلانا اور پارلیمنٹ کے اندر بحث کے لیے مناسب وقت اور عمل سے متعلق فیصلے لینے کا خصوصی اختیار اسپیکر کا ہے۔ ان کے فیصلے کو سپریم کورٹ بھی چیلنج نہیں کر سکتا۔ دوسری طرف تصویر کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ پارلیمانی جمہوریت میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان توازن بنا کر چلنا، ایوان کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری انتظامات کرنا۔ ایوان میں امن و خیر سگالی بنائے رکھنے کے لیے سبھی فریق کو ساتھ لے کر کامیابی سے ایوان چلانا ہی اسپیکر کا اہم مقصد ہونا چاہیے۔

راجیہ سبھا کے سابق جنرل سکریٹری اور مرکز و یو پی میں کئی اعلیٰ عہدوں پر رہے ڈاکٹر یوگیندر نارائن کی بالکل الگ رائے ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو دن تک چلے ہنگامے اور بحث کو فی الحال ٹال کر مناسب وقت پر کرانے کے اسپیکر اوم برلا کے فیصلے میں کچھ بھی غلط نہیں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ دہلی فسادات پر پارلیمنٹ میں بحث اور حکومت کے جواب سے بہت سی باتیں اور جانچ کا عمل متاثر ہونے کا اندیشہ ہے، کیونکہ فسادات کے قصورواروں کو اب بھی پکڑا جا رہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ پارلیمنٹ میں کسی بھی موضوع پر بحث کے لیے وقت کے گھنٹے اور دن طے کرنے کا کام ورکنگ کمیٹی کا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن اس فورم پر دہلی فسادات پر بحث کا وقت طے کرنے میں ناکام ہو گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔