کانگریس کا ’آئی این سی لیگل فیلوشپ‘ نوجوان قانون داں قیادت تیار کرنے کا ایک مضبوط عزم، 2000 درخواستیں ہوئیں موصول

اس فیلوشپ کا تصور ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر کیا گیا ہے جو قانونی تعلیم اور قانون سازی کے عمل کے درمیان پل کا کردار ادا کرے۔

<div class="paragraphs"><p>انٹرویو کے لیے تیار پینل میں شامل سینئر ایڈووکیٹ پرشانتو چندر سین، ایڈووکیٹ اپار گپتا اور ایڈووکیٹ عالیہ وزیری</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

انڈین نیشنل کانگریس کے لاء، ہیومن رائٹس اور آر ٹی آئی محکمہ نے ایک اہم قدم کے طور پر 3 مارچ 2026 کو ’آئی این سی لیگل فیلوشپ‘ کے پہلے ایڈیشن کا آغاز کیا تھا۔ اس پروگرام کی قیادت معروف قانون داں اور کانگریس کے سینئر رہنما ابھشیک منو سنگھوی کر رہے ہیں۔ اس فیلوشپ کا مقصد نوجوان قانونی ذہنوں کو پارلیمانی اور آئینی امور سے جوڑنا اور انہیں عملی سطح پر قانون سازی کے عمل سے روشناس کرانا ہے۔

کانگریس کا ’آئی این سی لیگل فیلوشپ‘ نوجوان قانون داں قیادت تیار کرنے کا ایک مضبوط عزم، 2000 درخواستیں ہوئیں موصول

اس فیلوشپ کا تصور ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر کیا گیا ہے جو قانونی تعلیم اور قانون سازی کے عمل کے درمیان پل کا کردار ادا کرے۔ اس کے تحت نوجوان پیشہ ور افراد کو اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ قریبی طور پر کام کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا، جہاں وہ اہم قانونی، آئینی اور پالیسی معاملات پر براہ راست تجربہ حاصل کر سکیں گے۔


اس قدم کو غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ محکمہ کو ملک بھر سے تقریباً 2000 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے سخت جانچ کے عمل کے بعد باصلاحیت امیدواروں کے ایک منتخب گروپ کو حتمی انٹرویو کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ یہ انٹرویوز 11 اور 12 اپریل 2026 کے درمیان منعقد کیے جائیں گے۔ آج اس انٹرویو کا پہلا دن تھا۔ حتمی مرحلے کے انٹرویوز ایک ممتاز پینل کے ذریعے لیے جا رہے ہیں، جس میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے سینئر ایڈووکیٹ پرشانتو چندر سین، انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن کے بانی و ایڈووکیٹ اپار گپتا اور معروف ایڈووکیٹ و مصنفہ عالیہ وزیری شامل ہیں۔

محکمہ نے اس زبردست ردعمل کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں اس فیلوشپ پروگرام کو مزید وسعت دی جائے گی۔ اس کا مقصد ایک مضبوط اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ قانونی ماہرین کا ایسا گروپ تیار کرنا ہے جو آئینی طرز حکمرانی میں بامعنی کردار ادا کر سکے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔